.

عُمان : صلالہ اور الدقم کی بندرگاہوں پر امریکی فوج کو سہولیات پیش کرنے کا سمجھوتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے اتوار کے روز سلطنت عمان کے ساتھ بندرگاہوں سے متعلق ایک تزویراتی سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں۔ امریکی ذمے داران کا کہنا ہے کہ اس سمجھوتے سے امریکی فوج کو زیادہ سہولیات حاصل ہوں گی اور ایران کے ساحل کے مقابل آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کے بھیجے جانے کی ضرورت بھی محدود ہو جائے گی۔

سلطنت عمان میں امریکی سفارت خانے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سمجھوتے کے نتیجے میں امریکا الدقم اور صلالہ میں تنصیبات اور بندرگاہوں سے فائدہ اٹھا سکے گا۔ علاوہ ازیں یہ سمجھوتا ایک بار پھر سے مشترکہ سکیورٹی مقاصد کی مضبوطی کے حوالے سے دونوں ملکوں کی پاسداری کو یقینی بنائے گا۔

دوسری جانب سلطنت عمان نے بھی اپنے طور پر سمجھوتے پر دستخط کا اعلان کیا ہے۔ عمان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق دونوں ملکوں کی وزارت دفاع نے اتوار کے روز اس سمجھوتے پر دستخط کیے۔ سمجھوتے کا مقصد عمان اور امریکا کے بیچ عسکری تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔

الدقم کی بندرگاہ بحر عرب پر پھیلی ہوئی ہے اور یہ تزویراتی نوعیت کی آبنائے ہرمز سے تقریبا 500 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔ اس علاقے میں امریکی افواج اور ایرانی بحریہ کے درمیان نوک جھونک چلتی رہتی ہے۔

ایک امریکی ذمے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ یہ سمجھوتا کافی اہم ہے کیوں کہ یہ علاقے سے مربوط بندرگاہوں تک آمد کو بہتر بنائے گا اور اس طرح امریکی فوج بحران کے وقت ڈٹے رہنے پر زیادہ قادر ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ "ایرانی اسلحے کی کوالٹی اور تعداد امریکی اندیشوں میں اضافہ کر رہی ہے"۔

اس سے قبل ایران کئی بار دھمکیاں دے چکا ہے کہ وہ امریکا کی جانب سے کسی بھی دشمنانہ کارروائی کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کر دے گا۔ تہران کے مطابق ان کارروائیوں میں امریکی پابندیوں کے ذریعے ایران کی تیل کی برآمدات کو روکنا شامل ہے۔

تاہم امریکی ذمے دار کا کہنا ہے کہ یہ سمجھوتا خطے میں کسی بھی بحران کا سامنا کرنے کے حوالے سے امریکا کے عسکری آپشنز میں اضافہ کرے گا۔

الدقم کی بندرگاہ بڑے جہازوں کے لیے مثالی ہے اور یہاں طیارہ بردار جہازوں کے لنگر انداز ہونے کی بھی گنجائش ہے۔

امریکی ذمے دار کے مطابق یہ بندرگاہ انتہائی پرکشش ہے اور آبنائے ہرمز سے باہر ہونے کے باعث تزویراتی لحاظ سے اس کا جغرافیائی محل وقوع نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

اس سمجھوتے کے ذریعے امریکا خطے میں نفوذ کی عالمی دوڑ میں چین کے مقابل بہتر پوزیشن میں آ سکتا ہے۔