.

ترکی کی جیلوں میں حراست کے دوران چوتھی کرد خاتون کی خودکشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں کرد باغیوں کے تاریخی رہ نما عبداللہ اوجلان کی حراست کی شرائط پر احتجاج کرتے ہوئے سرکاری جیل میں ایک کرد خاتون کارکن نے خود کشی کر لی۔ اس بات کا انکشاف ترکی میں کُردوں کی ہمنوا پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی ایک خاتون ذمے دار نے کیا۔

مذکورہ عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ مدیا چنار حالیہ عرصے میں ترکی کی جیلوں میں خود کشی کرنے والی چوتھی کرد خاتون ہے۔

اس سے قبل اوگور سکار، زلکوف جیزین اور ایتن پاشات بھی گزشتہ برس 8 نومبر کو کرد خاتون رکن پارلیمنٹ لیلی گوفن کی جانب سے بھوک ہڑتال شروع کیے جانے کے بعد خود کشی کر چکی ہیں۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے مطابق 170 سے زیادہ افراد لیلی گوفن کے ساتھ ان کی بھوک ہڑتال میں شامل ہو چکے ہیں۔ اس ہڑتال کا مقصد اوجلا کی حراست کی شرائط میں نرمی کا مطالبہ ہے۔

مدیا چنار پر کردستان ورکرز پارٹی کے ساتھ تعلق رکھنے کا الزام تھا۔ واضح رہے کہ ترکی کے علاوہ یورپی یونین ، امریکا اور کینیڈا بھی اس پارٹی کو دہشت گرد تنظیم شمار کرتے ہیں۔

عبداللہ اوجلان کو مکمل طور پر تنہا رکھنے کے باوجود وہ ترکی میں کردوں کی بغاوت کی علامت کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ سال 1984 سے جاری اس تنازع میں اب تک 40 ہزار سے زیادہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔