.

فائر بندی کے باوجود غزہ پٹی پر اسرائیل کی نئی بم باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ نیوز چینل کے نمائندے کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے منگل کو علی الصباح غزہ پٹی میں کئی ٹھکانوں کو بم باری کا نشانہ بنایا۔

اس سے قبل فلسطینی ذرائع ابلاغ نے منگل کی صبح بتایا تھا کہ اسرائیل نے غزہ پٹی کے مغرب میں بم باری کی نئی کارروائی کی ہے اور اسرائیلی طیاروں کی جانب سے بکثرت اڑان جاری ہے۔ فلسطینی میڈیا کے مطابق اسرائیلی بم باری میں غزہ کے جنوب مغرب میں فسلطینی گروپوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا۔

غزہ پٹی میں کئی زوردار دھماکے سنے گئے جب کہ دوسری جانب غلاف غزہ (غزہ پٹی کی سرحد کے نزدیک اسرائیلی بستیاں) کی یہودی بستیوں میں بھی خطرے کے سائرن بجا دیے گئے۔

یہ تازہ پیش رفت مصر کی وساطت سے عمل میں آنے والی فائر بندی کے اطلاق کے کچھ ہی دیر بعد سامنے آ گئی۔

اسرائیلی فوج نے منگل کو علی الصباح جاری ایک بیان میں اعلان کیا کہ پیر کی شب دس بجے کے بعد غزہ پٹی کی جانب سے اسرائیل پر 30 راکٹ داغے گئے۔ اس طرح پیر کی شام فائرنگ اور بم باری کے تبادلے کے آغاز کے بعد فلسطینی گروپوں کی جانب سے عبرانی ریاست پر داغے جانے والے راکٹوں کی مجموعی تعداد 60 ہو گئی۔

اسرائیلی فوج کے مطابق اس نے پیر کی شب دس بجے کے بعد سے 15 نئے فضائی حملے کیے جن میں غزہ میں کئی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ان اہداف میں اسلامی جہاد تنظیم کا ایک عسکری کمپاؤنڈ شامل ہے۔ اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں باور کرایا ہے کہ وہ مختلف منظر ناموں کے لیے تیار ہے اور ضرورت کے مطابق اپنی عسکری کارروائیوں میں اضافہ کرے گی۔

فلسطینی تنظیم حماس نے پیر کی شب غزہ پٹی میں اسرائیل کے ساتھ فائر بندی کا اعلان کیا تھا۔ یہ فائر بندی مصری مداخلت کے نتیجے میں عمل میں آئی۔ حماس کے ترجمان فوزی برہوم کا کہنا تھا کہ قابض اسرائیلی حکام اور فلسطینی مزاحمتی گروپوں کے درمیان فائر بندی کے لیے مصری کوششیں کامیاب ہو گئیں۔

فلسطینی ذرائع نے العربیہ کو بتایا کہ فائر بندی کا نفاذ مقامی وقت کے مطابق رات 10:00 ہوا۔

قاہرہ میں العربیہ کے نمائندے کے مطابق مصر نے ایک بار پھر اپنا یہ مطالبہ دہرایا ہے کہ غزہ میں فائرنگ اور بم باری کی تمام کارروائیوں کو فوری طور پر روک دیا جائے اور حماس اور اسرائیل جذبات کو قابو میں رکھیں۔