.

مصر : جامعہ الازہر کی طالبہ کے ساتھ زیادتی اور قتل کی اصل کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں گزشتہ ہفتے کے روز سے سوشل میڈیا پر اس واقعے کی شدید مذمت سامنے آ رہی ہے جس کے مطابق اسیوط میں جامعہ الازہر کے کیمپس میں زیر تعلیم ایک نوجوان طالبہ کی لاش جھاڑیوں سے ملی۔ اس طالبہ کو زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا تھا۔

واقعے کی خبر پھیل جانے کے بعد نامعلوم ذرائع کی جانب سے سوشل میڈیا پر جامعہ کے کیمپس کے اندر مظاہروں کی وڈیو وائرل کر دی گئی۔ ان مظاہروں میں مذکورہ طالبہ کی ساتھیوں نے مقتولہ کے لیے قصاص اور واقعے کی تفصیلات جاننے کا مطالبہ کیا۔

واقعے کے بعد چند گھنٹوں کے اندر ہی مصری وزیراعظم مصطفی مدبولی اور شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب نے اس مجرمانہ کارروائی کی فوری تحقیقات اور ذمے دار افراد کی تلاش کے احکامات جاری کر دیے۔

دوسری جانب جامعہ الازہر نے واقعے کی وضاحت کے لیے ایک بیان جاری کیا۔

اسیوط میں جامعہ الازہر کے کیمپس کے نائب سربراہ ڈاکٹر اسامہ عبدالرؤوف کے مطابق کیمپس کی کسی بھی طالبہ کے غائب ہونے یا اسے حملے کا نشانہ بنانے سے متعلق خبر بے بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک افواہ تھی جو گزشتہ چند روز کے دوران سوشل میڈیا پر بعض پیجز کی جانب سے پھیلائی گئی۔ اس کے نتیجے میں شہریوں بالخصوص کیمپس کی طالبات میں شدید بے چینی اور تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ عبد الرؤوف نے بتایا کہ بعض ویب سائٹوں پر کیمپس کی ایک طالبہ "ن.ح" کا نام دے کر اس کے لا پتہ ہو جانے کی خبر دی گئی جب کہ وہ محفوظ اور سلامت ہے۔ درحقیقت یہ طالبہ دو روز کی چھٹی لے کر اپنے اہل خانہ سے ملنے کے لیے گئی تھی۔ بعد ازاں واپس آ کر اس کی اپنی ساتھی طالبات سے ملاقات بھی ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جامعہ کی انتظامیہ ان افواہوں کو پھیلانے والوں کے خالف قانونی چارہ جوئی کے تمام اقدامات کر رہی ہے۔

سکیورٹی فورسز نے سب سے پہلے اس افواہ کو پھیلانے والی شخصیت کو حراست میں لے لیا ہے۔ یہ الاسکندریہ صوبے میں مقیم ایک لڑکی ہے جس کا نام آیہ حامد ہے۔

مصر کے اٹارنی جنرل نبیل صادق نے اسیوط کی استغاثہ کو واقعے کی تحقیقات کی ذمے داری سونپی ہے۔