.

امریکا کے گولان کی چوٹیوں پرفیصلے کے ردعمل میں مزاحمت کی جائے: حسن نصراللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی حزب اللہ ملیشیا کے سربراہ سیّد حسن نصراللہ نے امریکا کی جانب سے گولان کی چوٹیوں پر اسرائیل کی خود مختاری تسلیم کرنے کے ردعمل میں مزاحمت پر زور دیا ہے۔

انھوں نے ایک نشری تقریر میں کہا ہے کہ اب شامیوں کے لیے اپنی اراضی اسرائیلی قبضے سے واگزار کرانے اور فلسطینیوں کے لیے اپنے جائز حقوق کی بازیابی کا ایک ہی راستہ رہ گیا ہے اور وہ مزاحمت ، مزاحمت اور صرف مزاحمت ہے۔انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو عرب ، اسرائیل تنازع کی تاریخ میں تبدیلی کا ایک اہم نقطہ قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا فیصلہ خطے میں امن عمل کو سبو تاژ کرنے کے لیے ایک ناک آؤٹ گھونسا ہے۔حزب اللہ کے سربراہ نے عرب لیگ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسی ماہ کے آخر میں تیونس میں اپنے منعقد ہونے والے سربراہ اجلاس میں کوئی اقدام کرے اور تنظیم اسرائیلی ، فلسطینی تنازع کے حل کے لیے پیش کردہ عرب امن اقدام کو اب واپس لے لے۔
یہ عرب امن اقدام سعودی عرب کے شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز مرحوم نے 2002ء میں بیروت میں عرب لیگ کے منعقدہ سربراہ اجلاس میں پیش کیا گیا تھا۔اس میں اسرائیل کو یہ پیش کش کی گئی تھی کہ اگر وہ 1967ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے علاقوں کو خالی کر دیتا ہے تو عرب ممالک اس کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے تیار ہوں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے زیر قبضہ شام کے علاقے گولان کی چوٹیوں پر صہیونی ریاست کی خودمختاری باضابطہ طور پر تسلیم کرنے سے متعلق حکم پر سوموار کو دست خط کیے تھے ۔اس موقع پر وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یا ہو بھی موجود تھے۔اس فیصلے سے انھوں نے گذشتہ باون سال سے جاری امریکا کی مشرقِ اوسط میں پالیسی کو بھی تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ان کے حکم کے بعد امریکا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے مقبوضہ گولان کی چوٹیوں پر اسرائیل کی خود مختاری کو تسلیم کیا ہے۔

عرب لیگ سمیت متعدد علاقائی ممالک لبنان ، ترکی ، ایران اور سعودی عرب نے امریکی صدر کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔اسلامی تعاون تنظیم نے ان کے فیصلے کو بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیا ہے۔