.

سعودی عرب: انتظامیہ کے تعاون سے قیدی کی جیل میں شادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں الحایر کے مقام پر واقع ایک جیل میں قیدی کی شادی کی شاندار تقریب منعقد کی گئی۔ جیل میں اپنے جرائم کی سزا کاٹنے والے قیدی کی شادی کی تقریب میں انتظامیہ اور اسٹیٹ سیکیورٹی پریزیڈنسی کی طرف سے مکمل تعاون کیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق چالیس سالہ قیدی محمد القحطانی نے جیل انتظامیہ کو درخواست دی کہ جیل میں اس کی شادی کا اہتمام کیا جائے۔ محمد القحطانی پہلے سے شادی شدہ ہیں مگر انہوں نے سابقہ بیوی کو طلاق دے دی تھی۔ ان کا ایک بیٹا ہے جو اس وقت یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہے۔

'ایم بی سی' سے بات کرتے ہوئے محمد القحطانی نے کہا کہ اس نے جیل حکام کو شادی کی سہولت دینے کی درخواست کی تھی۔ انتظامیہ نے اس کی جیل کے اندر شادی کی‌ خواہش پوری کر دی۔ اس پر وہ انتظامیہ بالخصوص اسٹیٹ سیکیورٹی پریزیڈنسی کے حکام کا شکر گذار ہے جنہوں‌ نے نہ صرف شادی کی تقریب کی اجازت دی بلکہ ہر چیز کااہتمام کیا۔

قیدی دلہا کے بھائی نے کہا کہ جیل میں ہمارے بھائی کی شادی ہمارے لیے دوہری خوشی کا باعث ہے۔ ہمیں ایک تو بھائی کی شادی کی خوشی ہے اور دوسرا ہمارے عزیزو اقارب کو القحطانی سے ملاقات کا موقع بھی مل گیا۔

محمد القحطانی کا کہنا تھا کہ میری عمر40 سال ہوچکی ہے۔ میں 20 سال سعودی عرب سے باہر رہا۔ واپسی پر مجھے گرفتار کرلیا گیا اور اب میں جیل میں ہوں۔ میرے خاندان نے میری شادی کرانے کا فیصلہ کیا مگر جیل میں ہونے کی وجہ سے میں شادی نہیں کر پاتا تھا مگر انتظامیہ نے شادی کا خواب پورا کردیا۔ انتظامیہ کی طرف سے نہ صرف قیدی کو جیل میں شادی کی اجازت دی بلکہ اس کے تمام دوست احباب کو بھی مدعو کیا گیا اور دلہا اور دلہن کے لیے بیش قیمت تحائف بھی دیے گئے۔ محمد القحطانی کے بیٹے نے بھی اپنے والد کی شادی پر خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے جیل انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا ہے۔