.

سعودی نوجوان لڑکیاں گھڑ سواری کے میدان میں مہارت کی خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مشرقی صوبے کے شہر الخبر میں مقامی لڑکیوں میں گھڑ سواری کا کھیل سیکھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ان لڑکیوں کا مقصد محض مشغلہ یا تفریح نہیں بلکہ وہ پیشہ وارانہ بنیادوں پر اس کھیل کو سیکھ کر اپنی مہارتوں کا مظاہرہ کرنا چاہتی ہیں۔

اس سلسلے میں 20 سے زیادہ نوجوان لڑکیاں گروپوں کی صورت میں روزانہ کئی گھنٹوں کی تربیت حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔ اس دوران انہوں نے گھوڑوں پر سوار ہو کر اپنی شان دار مہارتوں کو بھی پیش کیا ہے۔ ان میں تیز رفتاری کے ساتھ گھڑ سواری اور رکاوٹوں پر سے چھلانگ شامل ہے۔

تربیت میں شامل بیس سالہ سعودی خاتون ریمان طرزان گھڑ سواری میں کسی قسم کی دشواری محسوس نہیں کرتی ہیں۔ انہوں نے گھڑ سواری کے ایک کلب میں داخلہ لے رکھا ہے جہاں وہ انے فارغ اوقات میں بھرپور تربیت حاصل کرتی ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے ریمان نے کہا کہ "میں گھوڑوں کے ساتھ محبت اور الفت کا تعلق رکھتی ہوں۔

ہمارے درمیان متبادل جذبات ہیں اور یہ میرے دوست ہیں"۔ ریمان نے گھڑ سواری کے کھیل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس کے جسمانی اور نفسیاتی صحت کے لیے بہت اچھے فوائد ہیں اور ساتھ ہی انسان کی جسمانی فٹنس کو بھی تقویت ملتی ہے۔ ریمان کے مطابق وہ مقامی سطح پر مقابلوں میں دو تمغے حاصل کر چکی ہیں اور آنے والے دنوں میں عرب اور بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کا ارادہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بہت سی سعودی خواتین گھڑ سوار مقامی میلوں اور ایونٹس میں انعامات حاصل کر چکی ہیں۔ ریمان کہتی ہیں کہ انہیں اپنے گھر والوں کی جانب سے بھرپور سپورٹ حاصل رہی ہے۔

گھڑ سواری سے جنون کی حد تک پیار کرنے والی 16 سالہ منیرہ الذیب بھی روزانہ کی بنیادوں پر اس کھیل کو سیکھنے کے تربیتی پروگرام میں شریک ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ "مجھے بچپن سے ہی گھوڑوں پر سوار ہونا پسند ہے۔ میرے اہل خانہ نے میرے اس شوق کو پروان چڑھایا اور میں نے گھڑ سواری سیکھنے کے لیے متعلقہ کلب میں داخلہ لے لیا۔ اب میں گھڑ سوار بن چکی ہوں اور روزانہ اس کی مشق کرتی ہوں۔ ساتھ ہی اس کا شوق رکھنے والی نوجوان لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہوں کہ وہ ہمارے ساتھ شامل ہوں"۔ منیرہ کے مطابق تربیت کا آغاز گھوڑے پر سوار ہونے کے بنیادی اصولوں سے ہوتا ہے اور پھر گھوڑوں کی دیکھ بھال اور ان کی خوراک کے بعد اصطبل کے انتظامی امور پر اختتام ہوتا ہے۔

گھڑ سواری کے کلبوں میں داخلہ لینے والی سعودی لڑکیاں یہ باور کراتی ہیں کہ ان کا یہ الحاق ان کے اہل خانہ کی سپورٹ کے سبب ممکن ہوا۔ ان کلبوں کے نتیجے میں گھڑ سواری کا شوق رکھنے والی بہت سی لڑکیوں اور خواتین کے لیے اس کھیل کو سیکھنا بہت آسان ہو گیا۔