.

ایران پر امریکی پابندیوں سے "حزب الله" کے ارکان تنخواہوں سے محروم: نیویارک ٹائمز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ایسا نظر آ رہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کا نتیجہ اُن شامی ملیشیاؤں کی تنخواہوں میں کمی کی صورت میں سامنے آ رہا جن کو تہران سے فنڈنگ ملتی ہے۔ یہ صورت حال ایران کے اُن وعدوں کے باوجود جنم لے رہی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ شام کی کمزور معیشت کی مدد کی جائے گی۔

جمعرات کے روز امریکی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے پابندیوں کے سبب ایران کو درپیش مالی بحران کے اثرات لبنان میں "حزب الله" ملیشیا پر بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔ ایران کے انتہائی قریب ہونے باوجود اس شیعہ ملیشیا کی تنخواہوں کا سلسلہ منقطع ہونا شروع ہو گیا ہے۔

امریکی پابندیوں کے سبب ایران کو جس مالی بحران کا سامنا ہے اس کے منفی اثرات عراق، شام، لبنان اور دیگر جگہاؤں پر اُن مسلح جماعتوں اور سیاسی حلیفوں پر نظر آ رہے ہیں جن کی تہران سپورٹ کرتا ہے۔

اخبار کے مطابق شام میں ایران کی حمایت یافتہ ایک ملیشیا سے تعلق رکھنے والے ایک جنجگو کا کہنا ہے کہ "سنہرے دن گزر گئے اور اب وہ کبھی واپس نہیں آئیں گے"۔ مذکورہ جنگجو نے بتایا کہ وہ دیگر مراعات کے ساتھ اپنی ایک تہائی تنخواہ سے محروم ہو چکا ہے۔ اس نے کہا کہ ایران کے پاس اب اتنا مال نہیں کہ وہ ہمیں دے۔

لبنان میں حزب اللہ کی توجہ جنوب میں اسرائیل کے ساتھ پوری سرحد پر مرکوز ہے تاہم وہ ہتھیاروں اور جنگجوؤں کی فراہمی کے ذریعے شام کی جنگ میں بھی شریک رہی۔ عراق میں ایران سے فنڈنگ حاصل کرنے والی ملیشیائیں داعش تنظیم کے خلاف جنگ میں شریک رہیں۔

لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ نے امریکی پابندیوں کے پس منظر میں ملیشیا کو درپیش مالی مشکلات کو تسلیم کرتے ہوئے اسے ایک طرح کی جنگ شمار کیا ہے۔ نصر اللہ نے مطالبہ کیا ہے کہ عطیات جمع کرنے کے لیے بھرپور طور پر متحرک ہوا جائے تا کہ مال کے ذریعے جہاد سے اس معرکے کو جاری رکھا جا سکے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایران کو درپیش دباؤ سے ثابت ہوتا ہے کہ پابندیاں کار گر رہیں۔ علاوہ ازیں واشنگٹن نے دباؤ کو مزید بڑھانے کے لیے منگل کے روز 25 شخصیات کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا۔ ان پر خطے میں ایرانی عسکری کارروائیوں کے واسطے ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی فنڈنگ کے لیے کرنسیوں کے بڑے پیمانے پر لین دین کے پروگرام میں شریک ہونے کا الزام ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گزشتہ ہفتے اپنے لبنان کے دورے میں کہا تھا کہ "ہماری جانب سے دباؤ ڈالے جانے کا مقصد دہشت گردوں کی فنڈنگ کا سلسلہ منقطع کرنا ہے اور یہ دباؤ مؤثر ثابت ہوا ہے"۔

یاد رہے کہ ایران نے شام میں انقلابی تحریک کے شروع ہونے کے ساتھ ہی بشار حکومت کو بھاری مالی معاونت پیش کی۔ تاہم کچھ عرصہ قبل وہ شام کے شمال مغرب میں بجلی کے ایک پاور اسٹیشن کے قیام کو یقینی بنانے میں ناکام رہا۔ اسی طرح ایران بنیادی ضروریات کی اشیاء شام پہنچانے سے متعلق اپنے وعدے پورے کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکا۔

ایران خطے میں اپنے نفوذ کو مضبوط بنانے کے واسطے کام کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں لبنان میں حزب اللہ، عراق اور شام میں شعیہ ملیشیاؤں، فلسطینی تنظیم حماس اور یمن میں حوثی ملیشیا کو سپورٹ فراہم کی جا رہی ہے۔

شیعہ ملیشیاؤں اور فلسطینی گروپوں کے جنگجوؤں نے اپنی تنخواہوں میں کمی کا اعتراف کیا ہے۔ یہاں تک کہ یہ عناصر خود کو ملی ہوئی رہائش بھی چھوڑ کر نکل جانے پر مجبور ہو گئے۔ ان میں بعض کا کہنا ہے کہ انہیں پیش کیے جانے والے کھانے اور خوراک کا معیار بدتر ہو گیا ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق کھانے میں گوشت کو کم کر کے آلوؤں کی مقدار بڑھا دی گئی ہے۔

نیویارک ٹائمز نے حزب اللہ کے ایک جنگجو کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسے اور اس کے ساتھیوں کو جنوری کی تنخواہ نہیں ملی۔ علاوہ ازیں فروری کے ماہ کی بھی بنیادی تنخواہ موصول ہوئی ہے جن میں بیوی اور بچوں کے لیے مخصوص الاؤنسز شامل نہیں۔ اسی طرح ماضی میں ان جنگجوؤں کو حاصل مراعات اور فوائد بھی کم کر دیے گئے ہیں۔ ان میں لبنان کے اندر نقل و حرکت، رہائش اور بیرون ملک کام کرنے کا الاؤنس شامل ہے۔