.

تین سال سے قبل ایرانی بجلی سے بے نیاز نہیں ہو سکتے: عراق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تہران پر عائد امریکی پابندیوں کے حوالے سے عراق کو حاصل استثناء میں توسیع کرے کیوں کہ بغداد تین سال سے پہلے ایران سے بجلی کی درآمد نہیں روک سکتا۔ الحلبوسی کا یہ مطالبہ جمعے کے روز ان کے واشنگٹن کے دورے کے دوران سامنے آیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے تہران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں تا کہ ایران کی برآمدات پر روک لگائی جا سکے اور اس کی آمدن کے ذرائع کو ختم کیا جا سکے۔ تاہم واشنگٹن نے ان پابندیوں کے حوالے سے بغداد کو تین ماہ کا استثناء دیا۔ بعد ازاں اتنے ہی عرصے کے لیے اس میں توسیع کر دی گئی۔ توسیع کا مقصد یہ ہے کہ عراق اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایران سے بجلی اور گیس کی درآمد کا سلسلہ جاری رکھے اور بجلی کی عدم فراہمی کے خلاف عوام کے نئے احتجاج سے بچا جا سکے۔

الحلبوسی نے واشنگٹن میں یو ایس پِیس انسٹی ٹیوٹ کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ "ہم اس استثناء میں توسیع کی امید کرتے ہیں یہاں تک کہ عراق اقتصادی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں کامیاب ہو جائے"۔

عراقی عہدے دار نے واشنگٹن میں متعدد امریکی ذمے داران سے ملاقات کی۔ ان میں نائب صدر مائیک پنس سرفہرست ہیں۔

الحلبوسی کے مطابق عراق توانائی کے شعبے میں اپنی ضروریات کا 30% حصہ درآمد کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ "آئندہ تین برس بعد ہم عراق کو اقتصادی طور پر خود مختار دیکھ رہے ہیں اور ہمیں کسی دوسرے ملک سے بجلی درآمد کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی"۔

امریکا نے گزشتہ ہفتے عراق کو حاصل استثناء میں تین ماہ کے لیے توسیع کر دی تھی۔ اس طرح عراق کو تہران پر امریکی پابندیوں کے باوجود ایران سے بجلی درآمد کرنے کا موقع مل گیا جس پر وہ شدت سے انحصار کرتا ہے۔

واشنگٹن نے گزشتہ برس نومبر میں ایران کے توانائی کے سیکٹر پر پھر سے پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ اس سے قبل وہ 2015 میں بڑی طاقتوں اور ایران کے درمیان دستخط کیے جانے والے جوہری معاہدے سے نکل گیا تھا۔

توانائی کے بحران کے سبب گھروں کو بجلی کی فراہمی منقطع ہو جاتی ہے جس کا دورانیہ یومیہ 20 گھنٹے تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ صورت حال گزشتہ موسم گرما کے دوران عراق میں کئی ہفتوں تک بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج کا مرکزی سبب بنی۔

اس کمی پر قابو پانے کے لیے عراق اپنی فیکٹریوں کے لیے تہران سے 2.8 کروڑ مکعب فٹ قدرتی گیس درآمد کرتا ہے۔ علاوہ ازیں عراق 1300 میگا واٹ بجلی ایران سے براہ راست خرید رہا ہے۔