روس کے ساتھ S-400 ڈیل پوری ہوئی تو واشنگٹن ترکی پر پابندیاں لگا دے گا: بلومبرگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

واشنگٹن نے خبردار کیا ہے کہ کہ اگر ترکی نے روسی ساختہ (S-400) میزائل سسٹم کی خریداری کی ڈیل کو پایہ تکمیل تک پہنچایا تو وہ انقرہ پر پابندیاں عائد کر دے گا۔ یہ بات جمعے کے روز انگریزی ویب سائٹ "بلومبرگ" پر جاری ایک رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔

ادھر ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اولو نے روس کے ساتھ ڈیل روکنے کے لیے امریکی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ ترکی اپنے دفاع کے لیے روسی ساختہ S-400 میزائل سسٹم کی خریداری پر اب بھی کاربند ہے۔

اولو کے مطابق روس کے ساتھ ڈیل کے جواب میں امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز اس بات کی کوششیں کر رہے ہیں کہ لوک ہیڈ مارٹن کمپنی کے تیار کردہ (F-35) لڑاکا طیاروں کی ترکی کو فروخت روک دی جائے۔ ترک وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ یہ کوشش "بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی" ہے۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ "ساری دنیا کو دیکھ لینا چاہیے کہ ڈکٹیشن اور اپنی مرضی مسلط کرنے کا اسلوب دم توڑ چکا ہے"۔

ترک وزیر کا کہنا تھا کہ "ہم روس کے ساتھ معاہدے پر کاربند ہیں۔ ہم یہ میزائل سسٹم کسی تیسرے ملک کو فروخت کرنے کے واسطے نہیں خرید رہے۔ یقینا ہم اپنی خاص ضرورت پوری کرنے کے لیے اسے خرید رہے ہیں"۔

ترکی کو "پیٹریاٹ" دفاعی میزائل سسٹم کی فروخت سے انکار کے کئی برس بعد امریکی وزارت خارجہ نے کانگریس کو آگاہ کیا کہ اس نے اس اقدام کی تجویز پیش کی تھی۔ اس کاوش کا مقصد انقرہ کو مجبور کرنا تھا کہ وہ روس کے ساتھ S-400 میزائل سسٹم کی خریداری کے سمجھوتے سے پیچھے ہٹ جائے۔ اس لیے کہ یہ ڈیل نیٹو کے زیر استعمال ٹکنالوجی کے رازوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں