عرب ممالک میں ایران اور اس کی ملیشیائوں کو قبول نہیں کرتے: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے وزیرخارجہ ابراہیم العساف نے زور دے کر کہا ہے کہ ان کا ملک عرب دنیا میں ایران اور اس کی حامی ملیشیائوں کی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی بیلسٹک میزائل علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ یمن میں جاری خون خرابے کا ذمہ دار ایران ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی وزیرخارجہ نے تیونس میں عرب سربراہ اجلاس سے خطاب میں ابراہیم العساف نے کہا کہ سعودی عرب یمن، شام اور لیبیا میں اقوام متحدہ کی جانب سے جاری امن مساعی کی ہر ممکن مدد جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب شام کی خود مختاری، سالیمت اور وحدت کا حامی ہے۔ شام میں اسد رجیم اور اپوزیشن کےدرمیان بامقصد مذاکرات کے ذریعے سیاسی عل کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب شام کی تمام اپوزیشن قوتوں کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے اور مل کر شامی رجیم کے سامنے اپنے مطالبات پیش کرنے کا حامی ہے۔

شام کے مقبوضہ وادی گولان پر اسرائیلی خود مختاری تسلیم کرنے کے امریکی اعلان پر بات کرتے ہوئے سعودی وزیرخارجہ نے کہا کہ مقبوضہ وادی گولان شام کا حصہ ہے۔ اس پر اسرائیل کی اجارہ دارہ قبول نہیں۔ سعودی عرب نے مقبوضہ بیت المقدس اور گولان کی چوٹیوں کو اسرائیل کے‌ حوالے کرنے کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلانات کو مسترد کر دیا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ نے نیوزی لینڈ میں وسط مارچ کو دو مساجد میں دہشت گردی کی کارروائی میں نمازیوں کی شہادت کو عالم اسلام کے لیے سنگین المیہ قرار دیا۔

ادھر کل اتوار 31 مارچ کو عرب سربراہ کانفرنس تیونس میں شروع ہو رہی ہے۔ عرب سربراہ اجلاس کے انعقاد سے قبل عرب لیگ کے وزراء خارجہ کا اجلاس گذشتہ روز ہوا۔ اجلاس میں‌عرب لیگ کے جنرل سیکرٹری احمد ابو الغیط بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں عرب سربراہ کانفرنس کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں