غزہ:حقِ واپسی مارچ ، ہزاروں فلسطینیوں کا اسرائیل کے خلاف احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے اسرائیل کی چیرہ دستیوں کے خلاف اور مہاجرین کی واپسی کے حق میں جاری مارچ کو ایک سال پورا ہوگیا ہے۔اس موقع پر ہفتے کے روز غزہ کی پٹی کے ساتھ اسرائیل کی سرحد ی باڑ کے نزدیک ہزاروں فلسطینی جمع ہوکر قابض فوج کے خلاف احتجاج کررہے ہیں اور بعض مقامات پر ان کی صہیونی فوجیوں سے جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔

فلسطین کے طبی حکام کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست گولیاں چلائی ہیں اور ا شک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں جس سے دو فلسطینی مظاہرین شہید اور تیرہ زخمی ہوگئے ہیں۔

غزہ کی حکمراں حماس نے ہزاروں مظاہرین کو سرحدی باڑ سے دور رکھنے کا وعدہ کیا ہے اور اس مقصد کے لیے اپنے بیسیوں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں جو مظاہرین کو باڑ کی جانب جانے سے روک رہے تھے جبکہ مصری ثالث کار حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی سمجھوتے کو حتمی شکل دینے کی بھی کوشش کررہے ہیں۔

حماس کی قیادت نے فلسطینیوں سے اس سالانہ مظاہرے میں بھرپور انداز میں شرکت کی اپیل کی تھی ۔ آج دوپہر کے بعد لوگ جوق درجوق سرحدی باڑ کی طرف آنا شروع ہوگئے تھے۔ان میں سے دسیوں مظاہرین نے باڑ کے بالکل نزدیک جانے کی کوشش کی اور انھوں نے اسرائیلی فوجیوں کی جانب پتھراؤ کیا ہے۔اس کے جواب میں صہیونی فوجیوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں اور براہ راست فائرنگ کی ہے۔

غزہ میں وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ مختلف مقامات پر اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے دو فلسطینی نوجوان شہید ہوئے ہیں۔ ان میں ایک کانام محمد سعد بتایا گیا ہے،اس کے سر میں گولی تھی اور اس کی عمر اکیس سال تھی۔ دوسرے فلسطینی شہید کا نام اعظم عمارہ بتایا گیا ہے،اس کی عمر سترہ سال تھی اور اس کے چہرے پر گولی لگی تھی۔

غزہ کی پٹی اور ا سرائیل کے درمیان فلسطینیوں نے احتجاجی مظاہرے 30 مارچ 2018ء کو شروع کیے تھے۔ اس دوران میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 220 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ان میں 41 کم سن بچے بھی شامل ہیں ۔گذشتہ پورے سال کے دوران میں انھوں نے اپنا یہ ہفتہ وار احتجاج جاری رکھا ہے۔ وہ غزہ کے محاصرے کے خاتمے اور اسرائیل کے قیام کے وقت بے گھر کیے گئے فلسطینی مہاجرین کی واپسی کے لیے مظاہرے کررہے ہیں۔

اس دوران میں گذشتہ سوموار کو اسرائیل نے غزہ پر ایک نئی جنگ مسلط کرنے کی کوشش بھی کی تھی اور اسرائیلی فوج نے غزہ پر فضائی حملے کیے تھے لیکن مصر کی ثالثی میں اس جنگ کے بادل عارضی طور پر چھٹ تو گئے ہیں لیکن جنگ کا خطرہ مکمل طور پر ٹلا نہیں ہے کیونکہ اسرائیل میں 9 اپریل کو پارلیمانی انتخابات منعقد ہورہے ہیں اور وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ان میں کامیابی کے لیے سکیورٹی کے ایشو کو زیادہ اوّلیت دے رہے ہیں۔ انھوں نے گذشتہ سوموار کو اسرائیل کی جانب فلسطینی علاقے سے راکٹ حملوں کے جواب میں سخت کارروائی کی دھمکی دی تھی۔اسرائیلی علاقے میں راکٹ گرنے سے سات افراد زخمی ہوگئے تھے ۔

نیتن یاہو کا پارلیمانی انتخابات میں ایک سابق اسرائیلی جنرل کے زیر قیادت اتحاد سے سخت مقابلہ ہے ۔اس لیے وہ فلسطینیوں کے خلاف سخت موقف اختیار کرکے انتہا پسند اسرائیلی ووٹروں کی حمایت کے حصول کے لیے کوشاں ہیں اور انتہا پسند بھی انھیں غزہ پر مزید حملوں کے لیے اکسا رہے ہیں۔

اسرائیل نے 2007ء میں حماس کے کنٹرول کے بعد سے اس فلسطینی علاقے کی بری ، بحری اور فضائی ناکا بندی کررکھی ہے جبکہ پڑوسی ملک مصر نے بھی غزہ کے اس محاصرے میں اسرائیل کا ساتھ دیا ہے۔اس سے اہلِ غزہ گوناگوں مسائل سے دوچار ہوچکے ہیں۔غزہ کی معیشت تباہی کے دہانے پرہے ۔دنیا کی سب سے بڑی اس کھلی جیل میں بے روزگاری کی شرح 50 فی صد سے بھی زیادہ ہے، زمینی پانی پینے کے قابل نہیں رہا ہے اور مکینوں کو دن میں چند گھنٹے کے لیے بجلی دستیاب ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ غزہ کی بیس لاکھ آبادی میں سے دوتہائی مہاجرین ہیں یا ان کی اولاد ہیں۔ انھیں 1948ء میں فلسطینی سرزمین پر صہیونی ریاست کے قیام کے وقت ان کے آبائی علاقوں سے زبردستی نکال باہر کیا گیا تھا۔انھیں ان کے آبائی علاقوں میں واپسی کا حق دلانے کے لیے پہلے عام فلسطینیوں نے احتجاجی مظاہرے شروع کیے تھے مگر بعد میں حماس نے اس احتجاجی تحریک کو ا پنے ہاتھ میں لے لیا تھا اور مظاہرین نے غزہ کی پٹی کی ناکا بندی کے خلاف احتجاج شروع کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں