' بیت المقدس بحران' کے بعد فلسطینی اتھارٹی نے برازیل اور آسٹریا سے سفیر واپس بلا لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلانات کے بعد فلسطینی اتھارٹی برازیل اور آسٹریا میں تعینات اپنے سفیر واپس بلا لیے ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی کے نائب وزیرخارجہ عمار حجازی نے بتایا کہ برازیل اور آسٹریا کی طرف سے بیت المقدس میں نمائندہ سفارتی مراکز کھولنے کے اعلانات کے بعد ان ملکوں میں تعینات فلسطینی سفیروں کو واپس رام اللہ بلا لیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی سفیروں کی واپسی ان دونوںً ملکوں کے ساتھ تعلقات کا ازسر نوجائزہ لینے کے لیے عمل میں لائی گئی ہے۔ اتوار کے روز برازیل کے صدر جیئر پوسونارو نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد شہر میں اقتصادی امور کا نمائندہ دفتر کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ گذشتہ ماہ آسٹریا بھی بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد وہاں پراپنا ایک نمائندہ دفتر قائم کر چکا ہے۔

عمار حجازی کا کہنا تھاکہ بیت المقدس کو اسرائیل کا صدر مقام تسلیم کرنے والے ممالک کے ساتھ تعلقات کا ازسر نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان کے ساتھ ہرسطح پر تعلقات کے بائیکاٹ کا فیصلہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

صدر پولسو نارو نے حال ہی میں مقبوضہ بیت المقدس کے دورے کے دوران صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطینی سفیر کی واپسی حیران کن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی شخص کو اذیت نہیں دیناچاہتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ ہماری آزادی کا احترام کریں اور انہیں بھی ہمارے کسی فیصلے خلاف احتجاج کا حق ہے۔

عمار حجازی نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کو برازیل اور آسٹریا کے فیصلوں پر سخت تشویش ہے۔ اس طرح‌کے اقدامات اور اعلانات مشرقی بیت المقدس سے متعلق بین الاقوامی قوانین اور قراردادوں کی توہین کے مترادف ہیں۔

انہوں‌ نے کہا کہ برازیل اور آسٹریا کی طرف سے القدس کو اسرائیل کا صدر مقام تسلیم کرنے کا ذمہ دار امریکا ہے۔ اگر امریکی حکومت ایسا فیصلہ نہ کرتی یہ دونوں ملک بھی بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم نہ کرتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں