.

ایران میں القاعدہ کی قیادت کے ساتھ قطر کے تعلق کی حقیقت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رواں ماہ مارچ کے اوائل میں شام میں داعش تنظیم کے آخری گڑھ اور دیر الزور کے مشرقی قصبے "الباغوز" پر سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے تعاون سے بین الاقوامی اتحاد کی فورسز کا حملہ ،،، 11 ستمبر کے حملوں کے بعد امریکا کی جانب سے 6 دسمبر 2001 کو افغانستان میں تورا بورا میں القاعدہ تنظیم کے گڑھ کے خلاف معرکے سے مشابہت رکھتا ہے۔

جس طرح تورا بورا میں القاعدہ کے وجود پر مادی طور پر قابو پالینے سے تنظیم کا خاتمہ نہیں ہوا اسی طرح آج شام میں الباغوز میں داعش کے گڑھ پر کنٹرول کا مطلب یہ نہیں کہ تنظیم کا باب اختتام پذیر ہو گیا ہے۔

القاعدہ کی قیادت اور ارکان مختلف اسلامی ممالک میں پھیل گئے تھے۔ اسی طرح داعش کی قیادت اور ارکان کی جانب سے بھی وہ ہی منظر نامہ دہرائے جانے کا قوی امکان ہے۔

بعض ممالک نے اپنے مفاد کے لیے مسلح بنیاد پرست جماعتوں سے فائدہ اٹھایا۔ ان ممالک میں سرفہرست ایران اور قطر ہیں جنہوں نے القاعدہ تنظیم سے افغانستان میں رہتے ہوئے بھی استفادہ کیا اور پھر اس کے منتشر ہو جانے کے بعد بھی اپنے کام میں لانے کا سلسلہ موقوف نہیں کیا۔ ایسا ہی معاملہ داعش کے ساتھ بھی ہونے جا رہا ہے۔

تہران اور دوحہ کے درمیان پرانا تعلق

مئی 2011 میں ایبٹ آباد آپریشن کے بعد اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ سے امریکی فوج کے ہاتھ لگنے والی دستاویزات سے انکشاف ہوا کہ القاعدہ تنظیم کا ایران اور ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ اس کے تحت 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد ایران کے مختلف شہروں کو عرب اور غیر ملکی جنگجوؤں کی میزبانی کرنا تھا۔ ان افراد میں القاعدہ تنظیم کی صف اول کی قیادت اور تنظیم کے سربراہ اسامہ بن لادن کے اہل خانہ کے افراد شامل تھے۔

مذکورہ افراد کے ایران میں قیام کے دوران قطر نے القاعدہ کے لیے مذاکرات اور فنڈنگ میں اہم کردار ادا کیا۔ اس امر نے سنی اور شیعہ مسلح بنیاد پرست جماعتوں کو بھرتی کرنے اور مشرق وسطی، افریقا، افغانستان اور پاکستان میں دو دہائیوں تک ان کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کے لیے خصوصی رابطہ کاری کی نوعیت کو ظاہر کر دیا۔

یہ کہانی فروری 2003 میں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ سے شروع ہوتی ہے جس کو صحافی پیٹرک ٹیلر نے تیار کیا تھا۔ ٹیلر نے اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ کولن پاول کا وہ بیان نقل کیا جو انہوں نے ابو مصعب الزرقاوی کے ایک نائب کے انکشافات کے حوالے سے دیا تھا۔ یہ نائب عراق سے آتے ہوئے ترکی میں پکڑا گیا تھا اور بعد ازاں اس نے عراق، مشرق وسطی اور یورپ میں القاعدہ تنظیم کے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات کیے تھے۔

کولن پاول نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ "القاعدہ تنظیم کے متعلقین یہ افراد جو بغداد میں موجود ہیں ،،، اس وقت پورے عراق میں افراد، مالی رقوم اور امداد کے حوالے سے رابطہ کاری میں مصروف ہیں۔ یہ لوگ آٹھ ماہ سے عراقی دارالحکومت میں آزادی سے کام کر رہے ہیں"۔

امریکی صحافی پیٹرک ٹیلر نے بین الاقوامی اتحاد کے ایک ذمے دار کے حوالے سے اپنی رپورٹ کے اختتام پر بتایا کہ زرقاوی کو ایک محفوظ پناہ گاہ فراہم کی گئی۔ اسی طرح تنظیم کے بقیہ ارکان کو قطری پاسپورٹس دیے گئے اور محفوظ مقام فراہم کیا گیا۔ یہ سب کچھ مالی سپورٹ کے علاوہ تھا۔ اتحاد کے ذمے دار نے بتایا تھا کہ قطر کے شاہی خاندان کے ایک رکن "عبد الكريم آل ثانی" نے قطری پاسپورٹس پیش کیے اور القاعدہ کے نیٹ ورک کی فنڈنگ کے لیے ایک بینک اکاؤنٹ میں دس لاکھ ڈالر سے زیادہ کی رقم جمع کرائی"۔

قطر اور القاعدہ تنظیم

امریکی وزارت خزانہ نے انکشاف کیا تھا کہ ایران میں القاعدہ تنظیم کے ارکان کی موجودگی کے دوران قطری مذاکرات کار کا کردار کئی مرتبہ سامنے آیا۔ اس حوالے سے نمایاں ترین نام "ياسين الكردی" نیٹ ورک کا تھا۔ یہ نیٹ ورک ایران میں القاعدہ تنظیم کا سہولت کار تھا جس نے ایرانی حکام کی جانب س اجازت ملنے کے بعد 2005 سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔

جولائی 2011 میں جاری امریکی وزارت خزانہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ "یاسین الکردی نیٹ ورک نے خلیج کے تمام علاقوں میں عطیہ کنندگان سے مالی رقوم اکٹھا کیں اور پھر انہیں افغانستان اور عراق میں القاعدہ کی قیادت تک پہنچایا۔ اس نے خلیجی ممالک میں القاعدہ تنظیم کے لیے بھرتی کیے جانے والوں کو ایران کے راستے پاکستان اور افغانستان پہنچنے کے سلسلے میں سفری سہولیات مہیا کیں۔ ایران میں القاعدہ تنظیم کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے الکردی نیٹ ورک ایرانی حکومت کے ساتھ کام کر رہا ہے تا کہ ایرانی جیلوں میں موجود القاعدہ کے ارکان کی رہائی عمل میں لائی جا سکے۔ القاعدہ کے سرگرم ارکان کی رہائی کے بعد ایرانی حکومت انہیں الکردی نیٹ ورک تک منتقل کرتی ہے جو ان افراد کے پاکستان کے سفر کے لیے سہولیات فراہم کرتا ہے"۔

لکواری اور ایران میں القاعدہ کے لیے مالی سپورٹ

امریکی وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق دو قطریوں "سالم حسن خلیفہ راشد الکواری" اور "عبداللہ غانم محفوظ مسلم الخوار" نے قطر میں اپنے قیام کی جگہ سے القاعدہ تنظیم کے لیے مذاکارات کار کے طور پر ایران میں سہولت کار نیٹ ورک میں شمولیت اختیار کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ الکواری نے اپنی کوششوں سے ایران میں القاعدہ تنظیم کو مالی اور لوجسٹک سپورٹ پیش کی۔ اس حوالے سے لاکھوں ڈالر القاعدہ کی کارروائیوں کی فنڈنگ کے واسطے پہنچائے گئے۔

برطانوی اخبار سنڈے ٹیلی گراف کے مطابق قطر میں حکمراں خاندان نے 42 سالہ سالم الکواری کو قطری وزار داخلہ میں ایک اہم پوزیشن پر مقرر کیا۔ اخبار نے تصدیق کی ہے کہ الکواری نے وزارت داخلہ میں کام کرتے ہوئے ایک دہشت گرد نیٹ ورک کے ذریعے لاکھوں دالر القاعدہ تنظیم کی گود میں جھونک دیے۔ بعد ازاں امریکا نے الکواری کو دہشت گرد شخصیات کی فہرست میں شامل کر لیا۔

جہاں تک 38 سالہ عبداللہ غانم الخوار کا تعلق ہے تو اس نے ایران میں القاعدہ کے عناصر کو مالی رقوم اور پیغامات پیش کرنے کے واسطے الکواری کے ساتھ مل کر کام کیا۔ اس نے افغانستان کا رخ کرنے والے شدت پسندوں کے سفر کے لیے سہولیات بھی پیش کیں۔

الکواری اور الخوار کے علاوہ امریکی وزارت خزانہ نے اکتوبر 2014 میں جاری اپنی رپورٹ میں عبد الملک محمد يوسف عُرف "ابو عمر القطری" کا نام بھی شامل کیا۔ ابو عمر کو مئی 2012 میں لبنانی حکام نے اس وقت گرفتار کیا جب وہ قطر سے القاعدہ تنظیم کے لیے بھاری مالی رقوم لے کر واپس آ رہا تھا۔ امریکی وزارت خزانہ کے مطابق ابو عمر نے شام میں القاعدہ کے ارکان کے لیے بھی مالی سپورٹ پیش کی اور شام میں لڑائی میں شریک ہونے کے لیے شدت پسندوں کی منتقلی کو آسان بنایا۔ خاص طور پر ترکی میں مقیم شامی باشندوں کو بھرتی کیا۔ اس نے قطری شہریوں ابراہیم البخر اور خلیفہ السبیعی اور لبنان میں ان کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ہتھیاروں اور عسکری ساز و سامان کی خریداری اور شام منتقلی کے لیے کام کیا۔

رپورٹ کے مطابق ابو عمر نے ایران میں القاعدہ کے سہولت کاروں کے ساتھ کام کیا تا کہ غیر ملکی جانب سے القاعدہ کو فنڈنگ ملنے کو یقینی بنایا جا سکے۔ سال 2011 کے اواخر میں ابو عمر نے ہزاروں ڈالر ایران میں کویتی باشندے "محسن الفضلی" کو پہنچائے جو دہشت گرد عناصر کی امریکی فہرست میں شامل تھا۔

اسامہ بن لادن کے ذاتی ساتھی الفضلی کا اصلی نام ایاد عاشور الفضلی ہے۔ وہ 2013 میں ایمن الظواہری کے ایلچی کے طور پر شام پہنچا تھا تا کہ داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی اور النصرہ فرنٹ کے سربراہ محمد الجولانی کے درمیان تنازع اور اختلاف کو حل کرایا جا سکے۔