.

ہنادی الغامدی : روانی سے چینی زبان بولنے والی سعودی خاتون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی خاتون ہنادی الغامدی نے مملکت کے شہر حائل میں منعقد ہونے والی شطرنج کی بین الاقوامی چیمپین شپ میں شریک غیر ملکی وفود بالخصوص چینی وفد کو حیران کر دیا۔ ہنادی نے ایونٹ کی سرگرمیوں کا چینی زبان میں فوری ترجمہ کر کے اسے عالمی میڈیا کے ذریعے نشر کرنے کو آسان بنا دیا۔

چیمپین شپ میں شریک ایک چینی کھلاڑی کو اس سعودی خاتون کی روانی کے ساتھ بولی گئی چینی زبان نے بہت متاثر کیا جس نے مذکورہ کھلاڑی کی ایونٹ میں شرکت کے لیے آسانی پیدا کر دی۔

ہنادی الغامدی 1981 میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد سعودی اور والدہ چینی ہیں۔ انہوں نے بچپن میں سب سے پہلے چینی زبان سیکھی۔ بعد ازاں وہ سعودی عرب منتقل ہو گئیں جہاں انہوں نے عربی اور انگریزی زبان کی تعلیم حاصل کی۔ والدین کے درمیان علاحدگی کے بعد ہنادی اپنے کام اور تعلیم کے سلسلے میں چین اور سعودی عرب کے درمیان سفر کرتی رہیں۔

ہنادی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے اپنے تجربے کے بارے میں بتایا۔ وہ چیمپین شپ میں ایشیا کے سیونتھ سیڈ چینی کھلاڑی وونگ ہو کی ساتھی اور مترجم کے طور پر ایونٹ میں شریک ہوئیں۔ وونگ نے حائل میں ہونے والی چیمپین شپ اپنے نام کی۔ ہنادی نے رضاکارانہ طور پر انگریزی اور چینی زبان کی فوری مترجم کی ذمے داریاں انجام دیں۔

ہنادی کے مطابق انہوں نے حائل میں ایونٹ کے دوران بہترین مہمان نوازی اور پر تپاک خیر مقدم پایا۔ وہ کہتی ہیں کہ بہت سے چینی اور غیر ملکی کھلاڑی ایک سعودی خاتون کو اس کردار میں دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ ایونٹ کے دوران تمام شرکاء کے بیچ ثقافتوں کا تبادلہ ہوا جس نے چیمپین شپ کو مزید نمایاں اور اہم بنا دیا۔

ہنادی نے بتایا کہ انہیں فوری ترجمے کے میدان میں 18 سال کا عملی تجربہ ہے۔ اس دوران انہوں نے تعلقات اور بین الاقوامی تجارت سمیت مختلف شعبوں میں کام کیا۔ ہنادی نے سعودی عرب اور عوامی جمہوریہ چین کے درمیان تجارتی تعاون کے میدان میں مختلف کمپنیوں کے بیچ رابطہ کاری میں بھی حصہ لیا۔ ہنادی کے والد ایک کاروباری شخصیت ہیں اور ان کی والدہ کا تعلق بھی ایک کاروباری خاندان سے ہے۔ اس چیز نے ہنادی کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے میں بڑی حد تک مدد کی۔

ہنادی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "میں نے چین میں بہت سے چیزیں سیکھیں جن میں خود اعتمادی بھی شامل ہے۔ میری عمر 12 برس تھی تو میں نے بہت سے چھوٹے کاموں میں مہارت حاصل کر لی تھی جو چینی بچوں کی تربیت کا ایک فطری جزو ہے"۔

ہنادی کے مطابق وہ دنیا کی نت نئی ایجادات بالخصوص اسمارٹ آلات کے بارے میں آگاہی حاصل کرنے میں وقت گزارتی ہیں۔ وہ چینیوں کے ساتھ رابطے میں رہتی ہیں تا کہ مارکیٹس کے رجحانات اور نئی چیزوں کے بارے میں مطلع رہیں۔ ہنادی کو انٹیریر ڈیکوریشن کا بہت شوق ہے۔ ہنادی کو نئی چیزوں کو دریافت کرنے اور لکھنے سے بھی دل چسپی ہے۔

ہنادی مستقبل کے لیے ایک نجی تجارتی منصوبے پر کام کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ اس کا مقصد سعودی عرب میں متعلقہ اداروں کے تعاون سے چینی زبان کی تعلیم کے شعبے میں اور تجارتی تعلقات کے میدان میں فوری ترجمے کے حوالے سے خدمات پیش کرنا ہے۔

ہنادی نے سعودی شاہی خاندان کی خاتون شہزادی ریما بنت بندر کو اپنے اور سعودی خواتین کے لیے رول ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک تہذیب یافتہ اور دانش ور شخصیت ہیں جنہوں نے ریکارڈ مدت میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے ہیں۔