امریکی F-35 یا روسی S-400 ایردوآن بڑے مخمصے کا شکار!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی نیوز نیٹ ورک CNBC کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کو اس وقت ایک ایسے آپشن کا سامنا ہے جس کے اُن کے ملک کی معیشت اور خارجہ تعلقات پر بھیانک اثرات مرتب ہوں گے۔

ایردوآن کے پاس دو راستے ہیں۔ وہ امریکی "پیٹریاٹ" میزائل سسٹم کی خریداری کے حق میں روسی ساختہ (S-400) دفاعی میزائل سسٹم خریدنے کے معاہدے سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں یا پھر وہ ماسکو کو واشنگٹن پر ترجیح دیتے ہوئے امریکی مطالبات کو مسترد کر کے (F-35) لڑاکا طیارے کے مشترکہ پروگرام سے دست بردار ہو جائیں گے۔

اس حوالے سے Alliance Bernstein میں ایمرجنگ مارکیٹس کی Debts اسٹریٹیجی کی ڈائریکٹر شمائلہ خان نے منگل کے روز "CNBC" سے گفتگو میں کہا کہ "اس معاملے کے حوالے سے حکومتی فیصلے کا مارکیٹ قریب سے جائزہ لے گی۔ اس کا مطلب امریکا کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہے جو ترکی کے اثاثوں کو متاثر کرے گی"۔

انقرہ نے 2017 میں ماسکو سے S-400 میزائل سسٹم کی خریداری کے لیے 2.5 ارب ڈالر مالیت کا ایک معاہدہ دستخط کیا تھا۔ اسی دوران ترکی نے امریکا میں ہتھیاروں کے مہنگے ترین پروگرام کی فنڈںگ میں مدد کی۔ یہ پروگرام F-35 لڑاکا طیاروں سے متعلق ہے جس میں ترکی اب تک 1.25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔

پینٹاگون نے رواں ہفتے واقعتا یہ اعلان کر دیا کہ ترکی کو F-35 طیاروں کے اجزاء حوالے کیے جانے کا عمل روک دیا جائے گا۔ یہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کرنے والے اقدامات میں تازہ ترین پیش رفت تھی۔

ایردوآن کے روس سے میزائل سسٹم خریدنے کے ارادے نے نیٹو اتحاد کے شراکت داروں اور واشنگٹن کے بیچ یہ اندیشے پیدا کر دیے کہ یہ نظام امریکی F-35 طیاروں جیسے لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں نیٹو اتحاد کو خطے میں ماسکو کے بڑھتے ہوئے عسکری وجود پر بھی تشویش محسوس ہو رہی ہے۔

ادھر اقتصادی انٹیلی جنس یونٹ میں ایک مرکزی یورپی اقتصادی ماہر اغاث دیمارس کا کہنا ہے کہ "اگر امریکا اور ترکی کے درمیان تعلقات میں ایک بار پھر بگاڑ آیا تو بڑی حد تک امکان ہے کہ ترک لیرہ ایک بار پھر مرکزی کرنسیوں کے مقابل شدید گراوٹ کا شکار ہو جائے"۔

ترکی کی معیشت واقعتا اس وقت کساد بازاری سے دوچار ہے۔ سال 2018 کے اختتام پر ترک لیرہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 36% قیمت کھو چکا تھا۔ اس صورت حال کے نتیجے میں سرمایہ کار افراتفری کے عالم میں ترکی سے بھاگنے لگے اور سرمایہ کاری کی رقوم ملک سے جانے لگیں۔

اقتصادی نمو میں سست روی کے نتیجے میں افراط زر اور بے روزگاری کی شرح میں اضافہ متوقع ہے۔

البتہ ایردوآن کئی مرتبہ اپنے بیانات میں یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ روسی ساختہ S-400 میزائل سسٹم کی ڈیل سے ہر گز پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ایردوآن اپنے عوام کے سامنے یہ موقف پیش کرنے کے خواہش مند ہیں کہ وہ امریکی دباؤ پر نہیں جھکتے۔

دوسری جانب بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کی ایک سینئر محققہ اماندا سلوات نے"CNBC" سے گفتگو میں کہا کہ ایردوآن کے نزدیک روسی میزائل سسٹم کی خریداری کی جیو اسٹریٹجک وجوہات ہیں۔ اس حوالے سے ترکی کے روس پر اعتماد اور انحصار کو بھی زیر غور رکھنا چاہیے جس کے زریعے ترکی کے صدر شام میں جنگ کا ایک مثبت نتیجہ دیکھنا چاہتے ہیں۔

سلوات کے مطابق امریکی کانگریس واضح طور پر اعلان کر چکی ہے کہ وہ ترکی اور روس کی اس ڈیل پر راضی نہیں۔ ساتھ ہی روس سے دفاعی ساز و سامان خریدنے سے متعلق امریکی قانون CAATSA کے ذریعے انقرہ کو پابندیوں کا نشانہ بھی بنایا جائے گا۔

سلوات کا کہنا ہے کہ "گیند اب ایردوآن کے کورٹ میں ہے جن کو دو مخالف راستوں میں سے کسی ایک کو چننے کا مشکل آپشن درپیش ہے"۔

واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ میں ترکی سے متعلق ریسرچ پروگرام کے ڈائریکٹر سونر کیتگبتائی کے مطابق جب ترکی کی معیشت اچھی حالت میں نہ ہو تو ایسے وقت میں امریکا کے ساتھ کوئی بھی بحران انقرہ کے لیے اقتصادی بحران کے منفی اثرات کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔

گویا اس کا مطلب ہے کہ خطرات کو مول لینے کا میلان رکھنے والے سرمایہ کاروں کے لیے ترکی کے اثاثے سستے داموں دستیاب ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں