ٹویٹر پر ایرانی اکاؤنٹس عربی زبان میں سعودی عرب کے خلاف پروپیگنڈے میں مصروف : رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایک امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایران کے زیر انتظام بعض عربی ویب سائٹس سعودی عرب پر کڑی تنقید اور شامی صدر بشار الاسد کی حمایت میں مصروف ہیں۔ یہ بات واشنگٹن پوسٹ نے "آکسفورڈ انٹرنیٹ انسٹی ٹیوٹ" کے حوالے سے بتائی ہے۔

ٹویٹر نے گزشتہ برس اگست میں سیکڑوں اکاؤنٹس روک دینے کا اعلان کیا تھا جن کے بارے میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ ایران کے ساتھ مربوط ہیں۔ ٹویٹر نے اس اقدام کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ مذکورہ اکاؤنٹس "رابطہ کاری کے ساتھ انجام دی گئی ہیرا پھیری" میں شریک رہے۔

اکتوبر میں ٹویٹر نے 770 اکاؤنٹس سے کی گئی ٹویٹس پیش کی تھیں جو ممکنہ طور پر ایران سے جاری کی گئیں۔

"آکسفورڈ انٹرنیٹ انسٹی ٹیوٹ" کے محققین نے مذکورہ اکاؤنٹس کی ٹویٹس کا تجزیہ کیا۔ اس کے نتیجے میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ ایران سے مربوط ان کاؤنٹس پر کی جانے والی زیادہ تر ٹویٹس فرانسیسی، انگریزی اور عربی زبان میں تھیں۔ ان میں ایران کی سرکاری زبان یعنی فارسی میں کی گئی ٹویٹس صرف 8% تھیں۔

اس حوالے سے انسٹی ٹیوٹ نے عربی زبان میں کی جانے والی ٹویٹس کے متعلق ایک تحقیقی رپورٹ بدھ کے روز جاری کی ہے۔ محققین نے باور کرایا ہے کہ عربی ٹویٹس میں ایرانی طرز بیان استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب پر کڑی تنقید اور شام کے صدر بشار الاسد کے لیے بھرپور سپورٹ کا اظہار کیا گیا ہے۔

اگرچہ محققین اس بات کا تعین نہیں کر سکے کہ ان اکاؤنٹس کو قطعی طور پر کون چلا رہا ہے۔ تاہم آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک محققہ منی السواح جنہوں نے مذکورہ تحقیقی مطالعے میں کام کیا، ان کا کہنا ہے کہ "ایسا لگتا ہے کہ یہ ایرانی حکومت کی جانب سے آئی ہیں کیوں کہ ان میں ایرانی حکومت کا طرز بیان اختیار کیا گیا ہے"۔ السواح نے واشنگٹن پوسٹ اخبار کو بتایا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ یہ پہلی تحقیق ہے جس نے ٹویٹر کے ذریعے عرب ممالک میں ایرانی مداخلت کو ثابت کیا ہے۔

آکسفورڈ کے تحقیقی مطالعے کے مطابق ایران سے مربوط اکاؤنٹس میں ایک ایسا اکاؤنٹ بھی ہے جس کے 42000 کے قریب فالوورز ہیں۔ اکاؤنٹ کا دعوی تھا کہ اس کا ہیڈ کوارٹر سعودی عرب میں ہے۔ علاوہ ازیں عربی زبان کی ان ٹویٹس میں زیادہ تر استعمال کیا جانے والا ٹرینڈ "السعودية" تھا۔ محققین کے سامنے یہ بات آئی کہ "سعودی عرب کے معاند ٹرینڈز نمایاں تھے"۔ مذکورہ اکاؤنٹس کی عربی ٹویٹس میں دوسرا سب سے زیادہ مقبول ٹرینڈ "اليمن" کا لفظ رہا۔ اس لیے کہ یمن کی جنگ میں ایران اور سعودی عرب ایک دوسرے کی مخالف جانب کھڑے ہیں۔


امریکا میں 2016 کے صدارتی انتخابات کے بعد سے سوشل میڈیا پر روسی گمراہ کن مہموں کے حوالے سے کڑی نگرانی کا عمل دیکھنے میں آیا ہے۔ منی السواح کے مطابق ممکنہ ایرانی مداخلت کے مقابلے میں روسی مداخلت کا موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ روسی اکاؤنٹس زیادہ پیش رفت اور جدت کے حامل ہیں۔

السواح نے یہ بھی بتایا کہ آکسفورڈ کی تحقیق میں شامل عربی زبان کے کئی اکاؤنٹس ایسے تھے جن میں "گفتگو کا انتہائی رسمی طریقہ استعمال کیا گیا ہے"۔ ان کی ٹویٹس میں تحریر کی جانے والی فصیح عربی زبان عام طور پر سوشل میڈیا پر استعمال نہیں کی جاتی بلکہ یہ ذرائع ابلاغ میں استعمال ہوتی ہے۔ اس فصیح زبان کے استعمال کا مقصد یہ تھا کہ عربی زبان کے مختلف لہجوں میں گفتگو کرنے والے افراد ٹویٹ کے متن کو سمجھ سکیں۔

تحقیقی مطالعے کے مطابق عربی زبان میں سب سے زیادہ سرگرم دس اکاؤنٹس میں سے نو اکاؤنٹس عربی خبروں کی سروسز کی نقل کر رہے تھے۔ ان اکاؤنٹس نے خود کو مختلف عرب ممالک کی نیوز سروس قرار دیا تھا۔

منی السواح کہتی ہیں کہ ایک جانب امریکی حلقے جعلی اور من گھڑت خبروں کا پتہ چلانے کے لیے کوشاں ہیں تو دوسری جانب مشرق وسطی اور شمالی افریقا میں میڈیا کے حوالے سے آگاہی میں کمی باعث تشویش ہے۔ السواح کے مطابق "لوگ خبروں کو تنقیدی نظر سے دیکھنے کی استعداد نہیں رکھتے.. جس کے سبب اس طرح کی معلومات گھڑنا بہت آسان ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں