یمن میں حوثیوں کی جانب سے اغواء کیے گئے شہریوں کے اہل خانہ سراپا احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کےہاتھوں اغواء کرنے کے بعد حراستی مراکز میں ڈالے گئے شہریوں سے غیرانسانی سلوک کے خلاف ان کے اہل خانہ مسلسل سراپا احتجاج ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جمعرات کو صنعاء میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے انسانی حق ہائی کمیشن کے دفتر کے باہر حراست میں لیے گئے اپنے پیاروں کی فوری رہائی کے لیے مظاہرہ کیا۔

قیدیوں کی مائوں اور دیگر افراد نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری پر زور دیا گیا تھا کہ وہ حوثی ملیشیا کے ہاتھوں جبری اغواء کیے گئے شہریوں کی بازیابی اور رہائی کے لیے اپناکردار ادا کریں۔

اسیران کی مائوں کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کے عقوبت خانوں میں پابند سلاسل ان کے بچوں کو وحشیانہ جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا سامنے ہے۔ دو دو ہفتوں تک ان سے ملاقات کی اجازت تک نہیں دی جاتی۔ انہیں کھانے پینے کی اشیاء پہنچانے ،کپڑوں اور ادویات تک فراہم نہیں کی جاتیں۔

خیال رہے کہ حوثی ملیشیا پر مخالف نظریات یا حکومت کی حمایت کرنے والے سیکڑوں شہریوں کو جبری اغواء کے بعد گم نام حراستی مراکز میں رکھنے اور ان کے ساتھ غیرانسانی سلوک کیے جانے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔ قیدیوں کو ایسے تنگ اور تاریک مقامات پر رکھا جاتا ہے جہاں سورج کی کرن تک نہیں پہنچتی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں