بوجھل دل کے ساتھ لیبیا سے واپس جا رہا ہوں: انتونیو گوتیرس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا کی فوج کی جانب سے دارالحکومت طرابلس پر کنٹرول کے لیے شروع کیے جانے والے فوجی آپریشن کو روکنے کے واسطے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کی کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔

العربیہ کے ذرائع نے جمعے کے روز بتایا کہ جنرل خلیفہ حفتر نے بنغازی میں گوتیریس سے ملاقات کی۔ اس موقع پر حفتر نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو باور کرایا کہ طرابلس میں فوجی آپریشن جاری رہے گا۔

گوتیرس نے جمعے کے روز اپنے سرکاری اکاؤنٹ پر ٹویٹ میں لکھا کہ "میں بوجھل دل اور گہری تشویش کے ساتھ لیبیا سے روانہ ہو رہا ہوں۔ میں اب بھی پر امید ہوں کہ طرابلس میں اور اس کے اطراف خونی تصادم سے گریز کیا جا سکتا ہے"۔

لیبیا کی قومی فوج نے جمعے کے روز اعلان کیا تھا کہ اس کی فورسز دارالحکومت طرابلس کے جنوبی علاقوں میں داخل ہو گئی ہے۔ لیبیا کی فوج کی جانب سے یہ کارروائی عالمی سطح پر تسلیم شدہ قومی وفاق کی حکومت کی فورسز کے خلاف عمل میں آ رہی ہے۔

لیبیا کی قومی فوج کے ترجمان اور مقامی آبادی نے بتایا کہ لڑائی سابقہ بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک ہوئی جس پر حفتر کی فورسز نے رات میں کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ بعد ازاں لیبیا کی عبوری حکومت کی فورسز نے ہوائی اڈے کو واپس لینے کا اعلان کر دیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انتونیو گوتیرس خانہ جنگی کو بھڑکنے سے روکنے کے واسطے خلیفہ حفتر کے ساتھ ملاقات کے بعد روانہ ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں