.

انٹرویو: سعودی عرب کی خاتون سائنسدان ڈاکٹرغادہ المطیری کے ساتھ سیر حاصل گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی محققہ اور سائنسدان ڈاکٹر غادہ المطیری نے کہا ہے کہ ان کی تربیت ایک تخلیق کار کے طور پر ہوئی۔ اس لیے انہوں نے روایت اور تقلید کو قبول نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر شخص کا اپنا ویژن اور سوچ و فکر کا انداز ہونا چاہیے جو اس کی اپنی پہچان قرار پائے۔

پروگرام 'المختصر' میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر غادہ المطیری نے اپنے تعلیمی اور تدریسی سفر سمیت زندگی کے دیگر گوشوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے حجاب اور اپنے قبیلے کے ساتھ اپنے تعلق کی تفصیلات بیان کیں۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر المطیری نے کہا کہ میری پیدائش امریکا کی ہے مگر میں‌ نے پرائمری اور مڈل تک تعلیم جدہ کے اسکولوں سے حاصل کی۔ اس کے بعد میں ایک سال تک ریاض میں منتقل ہو گئی جہاں اسکول کی تعلیم کے بعد امریکا کی ایک یونیورسٹی میں کیمسٹری کے مضمون میں پڑھائی شروع کی۔ سنہ 2005ء میں امریکی ریاست کیلیفورنیا کی کیلیفورنیا یونیورسٹی سے کیمسٹری کے مضمون میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔

کیمیا میں پی ایچ ڈی کے بعد کیمیکل انجینیرنگ کے لیے کیلیفورنیا کی برکلے یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور سنہ 2008ء میں برکلے یونیورسٹی سے بھی فراغت حاصل کر لی۔ اس دوران انہوں نے پروفیسر جان فیریشٹ کے ساتھ تحقیق و ریسرچ کے متعدد پروگراموں میں حصہ لیا۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر المطیری نے کہا کہ میں دن میں مسلسل 16 گھنٹے کام کرتی ہوں اور اپنے طلباء کو بھی زیادہ سے زیادہ محنت کی ترغیب دیتی ہوں۔ تاہم میں نے ذرائع ابلاغ سے ہمیشہ دوری اپنائی کیونکہ ذرائع ابلاغ ایسی باتیں بھی شائع کرتے ہیں جن کی اشاعت ضروری نہیں ہوتی۔

پروگرام میں بات کرتے ہوئے سعودی خاتون سائنسدان نے کہا کہ میں جب امریکا یا سعودی عرب سے باہر کسی دوسرے ملک کا سفر کرتی ہوں تو حجاب اتار دیتی ہوں۔ میں امریکا جیسے ملکوں میں حجاب کی وجہ سے لوگوں کی توجہ کا مرکز نہیں بننا چاہتی تھی۔ جب سعودی عرب میں آتی تو یہاں حجاب اوڑھ لیتی کیونکہ سعودی عرب میں حجاب عام ہے اور کسی کو اس سے کوئی الجھن نہیں ہوتی۔

اس کا کہنا تھا کہ اس کے قبیلے اور خاندان کے لوگ بہت اچھے ہیں۔ انہوں نے اسے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے امریکا بھیجا اور اس کےساتھ ہر طرح کا تعاون کیا گیا۔

المطیری کا کہنآ تھا کہ میں منافق نہیں بلکہ میں نے جو کچھ کیا وہ سب کے سامنے کیا۔ آخر کار میں نے حجاب اتار دیا کیونکہ لوگ مجھے 'منافق' کہنا شروع ہو گئے تھے۔