.

اگر ڈیٹا نیا تیل ہے تو چین نیا سعودی عرب ہے: سربراہ بحرین اقتصادی ترقی بورڈ

مشرقِ اوسط میں ٹیکنالوجی کو نظرانداز کرنا ہمارے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا: عالمی اقتصادی فورم میں گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرین کے اقتصادی ترقی بورڈ کے چیف ایگزیکٹو خالد الرمیحی نے کہا ہے کہ ’’ اگر ڈیٹا نیا تیل ہے تو چین نیا سعودی عرب ہے۔ اگر ہم مشرقِ اوسط میں ٹیکنالوجی کو نظر انداز کرتے ہیں تو یہ عمل ہمارے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا‘‘۔

وہ اتوار کے روز اردن میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم میں ’’ عرب دنیا میں چوتھے صنعتی انقلاب ‘‘ کے موضع پر سیشن میں گفتگو کررہے تھے۔اس سیشن کی میزبان العربیہ کی نمایندہ لارا حبیب تھیں۔اس سیشن میں متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے مصنوعی ذہانت عمر سلطان العلماء ، ڈیجیٹل ٹیکسی سروس کریم کے شریک بانی اور مینجنگ ڈائریکٹر مدثر شیخہ ، عالمی اقتصادی فورم کے مینجنگ ڈائریکٹر مراد سونمیز ، مینا کی ’اب رسائی ‘کی پالیسی مشیر وفا بن حسین اور عالمی اقتصادی فورم کے ایگزیکٹو چئیرمین اور بانی کلاز شواب شریک تھے۔

عمر سلطا ن العلماء نے کہا کہ ’’جمع کیے جانے والے معیاری ڈیٹا سے حکومتیں درست انداز میں پالیسیاں وضع کرسکیں گی۔ ہم نے یو اے ای میں ششماہی بنیاد پر قواعد وضوابط اور پالیسیوں کی جانچ کے لیے ایک پروگرام کا آغاز کیا ہے۔اس کی بدولت ہم پورے ملک میں ٹیکنالوجی ، پالیسی اور ان کے اثرات کے بارے میں جانچ کرسکیں گے اور اس کی بنیاد پر قانون سازی کے عمل کو مکمل کیا جاسکے گا‘‘۔

وفا بن حسین نے اپنی تقریر میں کہا کہ عرب دنیا میں نوجوان آبادی ٹیکنالوجی کی رسیا اور اس کا بھرپور انداز میں استعمال کررہی ہے ۔اس لیے ایجادات کی معاونت کی حامل سرکاری پالیسیوں میں مشینی تعلیم یا ای حکومت کی خدمات کو صارف مرتکز فریم ورک اختیار کرنا چاہیے۔

تاہم کریم کے مدثر شیخہ نے ان کے اس تجزیے سے اتفاق نہیں کیا ہے۔ان کی رائے تھی کہ ’’خطے نے ترقی کا موقع گنوا دیا ہے اور وہ بچھڑ کر رہ گیا ہے۔ ہم اپنے لوگوں کو جو معیارِ زندگی مہیا کررہے ہیں ، وہ یورپ ، امریکا یا دنیا کے دوسرے حصوں کے معیار کا نہیں ہے۔ہمارے یہاں بے روزگاروں کی فوج ظفر موج ہے ،ہمارا شہری ڈھانچا زبوں حال ہے ۔اس لیے ہمیں حقیقی معنوں میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا : ’’ میرے نزدیک تو چوتھا صنعتی انقلاب ہمیں ایک موقع مہیا کرتا ہے کہ ہمیں مینڈک کی طرح پھدکتے ہوئے ڈیجیٹل مستقبل میں قدم رکھنا ہوگا۔یہ دراصل ہمارے لیے ایک موقع ہے اور ہمیں ایک انفرااسٹرکچر کی تعمیر کرنا ہے۔ہمیں ابھی وہ نظام تعمیر کرنا ہے جو ترقی یافتہ دنیا نے عشروں پہلے بنا لیے تھے۔ہمیں یہ سب تیز رفتاری سے کرنا ہوگا‘‘۔

مدثر شیخہ نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور مشین کاری ( آٹو میشن ) کے بارے میں بالعموم یہ کہا جاتا ہے کہ ان سے روزگار کے مواقع کم ہوئے ہیں لیکن کریم ایسے پلیٹ فارموں نے یہ ثابت کیا ہے کہ ان سے حقیقی معنوں میں روزگار کے بہت زیادہ مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

سلطان العلماء نے ان کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’افراد اور حکومتوں کو نئی ٹیکنالوجیوں کو فعال انداز میں اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ہم یہ بات بخوبی سمجھتے ہیں کہ نیا صنعتی انقلاب دو چیزوں پر اپنی توجہ مرکوز کررہا ہے ۔ایک کوالٹی ڈیٹا اور دوسری کمپیوٹر کاری ۔ اگر ہمارے پاس ایک ایکو سسٹم ہو اور اس میں کسی بھی کمپنی کو کام کرنے کے مواقع دستیاب ہوں تو ہم لیڈر بن سکتے ہیں ‘‘۔

مشرقِ اوسط اور شمالی افریقا ( مینا) کے خطے کے لیے عالمی اقتصادی فورم ہفتے کے روز اردن میں بحیرہ مردار کے کنارے واقع سیاحتی مقام میں شروع ہوا تھا۔ اس کا بنیادی موضوع عرب دنیا میں چوتھا صنعتی انقلاب ہے۔اس فورم میں عرب دنیا میں استحکام کے ایجنڈے ، مستقبل میں اقتصاد ی ترقی کے لیے اقدامات اور خطے میں کاروباروں اور جدتوں کی معاونت کے لیے کوششوں اور اقدامات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔اس فورم میں کئی ایک عالمی رہ نما ، اقتصادی ماہرین اور بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں سے وابستہ ایک ہزار کے لگ بھگ شخصیات شریک ہیں۔