.

ایران ہمسایہ ممالک کودھمکانے کے لیے شام کو استعمال کرنے کا سلسلہ بند کردے :امریکی ایلچی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے خصوصی ایلچی برائے شام اور ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ جوئیل رےبرن نے کہا ہے کہ واشنگٹن ، یورپی یونین اور عرب دنیا کے درمیان ایران پر دباؤ ڈالنے کے معاملے میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے تاکہ اس کو شام کو علاقائی ممالک کو ڈرانے دھمکانے کے لیے استعمال کرنے سے روکا جاسکے۔

وہ اردن کے علاقے بحیرہ مردار میں منعقدہ عالمی ا قتصادی فورم میں شرکت کے موقع پر العربیہ سے گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں ایرانی رجیم بالکل تنہا ہے۔ پوری عالمی برادری ایران کے شام کو علاقائی ممالک کو ڈرانے دھمکانے کے لیے استعمال کرنے کے خلاف ہے اور اس کے اس کردار کو مسترد کرتی ہے۔عرب دنیا اس معاملے میں ہمارے ساتھ متفق ہے کہ ایران کو اس سے باز رکھنے اور تنہائی کا شکار کرنے کے لیے اس کے خلاف سیاسی اور اقتصادی دباؤ استعمال کیا جانا چاہیے۔

رے برن نے شام میں اسد رجیم کے اپنی جیلوں میں قیدیوں سے ناروا سلوک کے بارے میں بھی گفتگو کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ افشا ہونے والی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی جیلوں میں دوسری عالمگیر جنگ کے نازیوں کی طرح کے ’موت کیمپ ‘بنا رکھے ہیں۔

امریکی ایلچی شام کے ایک سابق فوجی کی فراہم کردہ ہزاروں تصاویر کا حوالہ دے رہے تھے۔یہ تصاویر مئی 2011 سے اگست 2013ء تک کھینچی گئی تھیں ۔ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ 6786 افراد شامی حکام کے زیر حراست ہر طرح کے تشدد کا نشانہ بنے تھے اور وہ ان کی اذیتوں کی تاب نہ لا کر موت کے منھ میں چلے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2254 امریکا کے لیے بائبل کا درجہ رکھتی ہے۔اس میں شام میں جاری بحران کے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے لیے ایک لائحہ عمل وضع کیا گیا ہے اور اس کے تمام نکات کی بالکل واضح الفاظ میں وضاحت کی گئی ہے ۔

قبل ازیں رے برن نے مشرقِ اوسط اور شمالی افریقا کے خطے کے لیے عالمی اقتصادی فورم میں شام اور عراق میں داعش کی شکست کے بعد تعمیر نو اور مصالحت کے موضع پر مباحثے میں شرکت کی ۔انھوں نے اس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا کی قیادت میں اتحاد نے داعش کی خلافت کا وجود تو ختم کردیا ہے لیکن داعش کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔اب ان کے مکمل ا ستیصال کے لیے مقامی کمیونیٹوں کو استحکام میں مدد دینا ہوگی تاکہ اس سخت گیر جنگجو گروپ کا دوبارہ احیا ہوسکے اور نہ ان علاقوں میں واپسی ہوسکے۔

ان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا شام میں عالمی برادری کی دلچسپی فی الواقع ختم ہوتی جارہی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ملک تیل کی دولت سے مالا مال نہیں ہے تو اس کے جواب میں امریکی ایلچی نے کہا کہ ’’وہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے اور اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ شام تزویراتی لحاظ سے ایک اہم ملک ہے ۔ اگر بحر متوسط کے ایک جانب عدم استحکام ہو گا آپ یہ توقع نہیں کرسکتے کہ اس کے دوسری جانب بھی استحکام ہوگا۔ہمیں تو ہر کہیں شام میں سب کی دل چسپی نظر آئی ہے اور وہاں جاری بحران کا ہر کوئی پُرانمن حل اور استحکام چاہتا ہے‘‘۔