.

عسیر صوبے کی سعودی خواتین کے "زیورات" تہذیبی ورثے کے ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی اور خلیجی خواتین زیورات کا انتخاب کرنے کے حوالے سے اپنا خاص ذوق رکھتی ہیں جس سے اُن کے ثقافتی ورثے اور تہذیب کا اظہار ہوتا ہے۔ سعودی عرب میں گلے کے ہار کے بہت سے نام معروف ہیں۔ ان میں اللبہ، القلادہ، العقد، الہلال، الشبابيک، الہياكل، الشليشل، الكردالہ، البنجرہ، المنابر، الخماخم، النخيلات اور الحجول شامل ہیں۔ اسی طرح انگوٹھیوں میں الخنصر، البنصر، الحواجز، الشاهد اور الفتخ کے نام مشہور ہیں۔

سعودی خواتین پرانے زمانے سے ہی چاندی کے لوازمات کا اہتمام کرتی رہی ہیں۔ ان لوازمات کو بھی مختلف نام دیے گئے جن میں الصفايح، الزمام، المعضد، الخرصان، العصابہ اور الرشرش شامل ہیں۔ علاوہ ازیں یہ خواتین رنگین قیمتی پتھروں میں بھی بڑی دل چسپی رکھتی ہیں۔

ہاروں کے ڈیزائن کے حوالے سے سعودی خاتون ام عبداللہ الغامدی نے بتایا کہ منگل بازار وہ نمایاں مقام ہے جہاں ایسے ہار فروخت ہوتے ہیں جن پر عسیر صوبے کی خصوصی چھاپ نظر آتی ہے۔ ان ہاروں میں مرجان، فیروزہ، یاقوت، ہیرا اور عقیق شامل ہوتا ہے۔ ام عبداللہ کے مطابق ان ہاروں کے مختلف نام ہوتے ہیں مثلا المعراء، المزنط، المريہ، المعمريہ، المرتعشہ، القردالہ، السبحہ، الفريدہ، المورقہ، المنثورہ، المشلشل اور الطوق وغیرہ"۔

ہاروں کی فروخت کا کام کرنے والی سعودی خاتون ام سعيد نے بتایا کہ "ہم گاہک کے مطالبے کے مطابق انہیں زیورات بنا کر دیتے ہیں۔ ایک ہار کی قیمت 500 سے 1000 ریال تک ہوتی ہے۔ بہت سی سعودی خواتین ہاتھ سے تیار کیے ہوئے ہار پسند کرتی ہیں"۔

ام سعید کے مطابق وہ چاندی کی بیلٹس بھی ڈیزائن کرتی ہیں۔ ان میں المحوت، المفشت، المصفح، لبوس العافيہ کے علاوہ المعضد، المصك اور الخلاخل شامل ہیں۔ البتہ چھوٹے دانوں والے ہار کو التوت، الصفائح، الزمام، المعضد، الخرصان، العصابة اور الرشرش کا نام دیا جاتا ہے۔ ام سعید نے بتایا کہ متعدد خواتین تہذیبی ورثے سے مطابقت رکھنے والا کام اپنے گھروں میں انجام دینے کی خواہش رکھتی ہیں۔