.

سعودی عرب میں پہلی ایشیائی ادبی کانفرنس ، فن پاروں کی نمائش میں 2 پاکستانی خطاط شریک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منگل کے روز "پہلی ایشیائی ادبی کانفرنس" کا انعقاد ہو رہا ہے۔ مرکز تحقیق برائے ابلاغی علوم کے زیر اہتمام یہ کانفرنس تین روز جاری رہے گی۔ ہوٹل روش ریحان روتانا میں ہونے والی کانفرنس میں 18 ایشیائی ملکوں سے 106 ادیب اور محقق شریک ہیں۔

کانفرنس کے موقع پر عربی رسم الخط سے متعلق ایک فنی نمائش کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔ اس نمائش میں چار آرٹسٹ اپنے فن پاروں کے ساتھ شرکت کر رہے ہیں۔ ان میں محمد الہی بخش اور عبدالرزاق محمد اشرف کا تعلق پاکستان سے اور نورالدین مے کوانگ ژیانگ اور فاطمہ تساوی ینگ کا تعلق چین سے ہے۔

ادبی کانفرنس کا مقصد ایشیا کی قدیم اقوام اور جزیرہ عرب کے درمیان تاریخی تعلقات، مشترکہ روابط اور اسلامی تہذیب کو بھرپور بنانے میں ایشیائی اقوام کے تاریخی کردار پر روشنی ڈالنا ہے۔ علاوہ ازیں ایسے تحقیقی مقالات کو زیر بحث لانا جو سعودی عرب اور براعظم ایشیا کے ممالک کے درمیان فکری، ثقافتی اور انسانی رابطوں کے مختلف شعبوں کو سامنے لائیں۔

کانفرنس میں شریک محققین 16 سیشنوں میں 87 تحقیقی مقالات پیش کریں گے۔ یہ مقالات درج ذیل سات عنوانات سے متعلق ہوں گے :

ایشیائی ممالک میں عربی کی تعلیم کے معاملات، ادب اور زبان کا مطالعہ، رابطے اور تہذیب، ایشیائی ممالک میں عربی زبان کی پوزیشن اور اس کا مستقبل، ترجمے کے معاملات، ذرائع ابلاغ اور رابطہ اور ڈکشنریاں اور بلاگز.

اس سلسلے میں ریاض میں مرکز تحقیق برائے ابلاغی علوم کے سربراہ ڈاکٹر یحیی بن محمود بن جنید نے واضح کیا کہ جزیرہ عرب کے لوگ قدیم زمانے سے ایشیائی اقوام کے ساتھ دائمی تعلقات میں مربوط رہے جن میں تجارت کا میدان نمایاں ترین رہا۔ ایشیائی عرب تعلقات کی طویل اور زرخیز تاریخ ہے۔ البتہ ان تعلقات میں قابل توجہ اور قابل ذکر ترقی اسلام کے ظہور اور عربوں کے اپنے جزیرے سے نکلنے کے بعد سامنے آئی جو دین اسلام کا آفاقی پیغام تھامے ہوئے تھے۔

ڈاکٹر یحیی کے مطابق پہلی ایشیائی ادبی کانفرنس ایک سنجیدہ علمی کاوش ہے تا کہ براعظم ایشیا میں زبان اور ثقافت کے حوالے سے عرب تہذیب کے پہلووؤں اور اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔ ساتھ ہی اس بات کو بھی نظر میں لایا جا سکے کہ عربی زبان اور اس کے علوم کے پھیلاؤ میں اسلام کے اثرات نے کیا کردار ادا کیا۔