.

شام : صوبہ حماہ میں فوج کی چوکی پر خودکش بم حملے میں 10 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے مغربی صوبے حماہ میں فوج کی ایک چوکی پر خودکش بم حملے اور جھڑپ میں دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق شمال مغربی شہر حماہ میں فوج کی چوکی پر منگل کو علی الصباح کسانوں کا روپ دھار ے خودکش بمباروں نے حملہ کیا تھا اور ا س کے بعد ان کی وہاں تعینات سکیورٹی اہلکاروں سے جھڑپ ہوئی ہے۔

سرکاری میڈیا نے طیبات الامام کے علاقے میں خودکش بم دھماکے میں تین سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ تمام حملہ آور جنگجو بھی مارے گئے ہیں ۔انھوں نے عام کسانوں والے کپڑے پہن رکھے تھے اور انھوں نے ایک ٹینک کی آڑ میں حملہ کیا تھا ۔ان کے اس ٹینک کو بھی تباہ کردیا گیا ہے جبکہ برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ بم دھماکے اور لڑائی میں کل دس افراد مارے گئے ہیں۔

فوری طور پر کسی گروپ نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن رصدگاہ کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ترکی اور روس کے درمیان سمجھوتے کے نتیجے میں قائم کردہ غیر فوجی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک جہادی گروپ نے کیا ہے۔

واضح رہے کہ ترکی اور روس کے درمیان گذشتہ سال ستمبر میں ایک سمجھوتا طے پایا تھا جس کے بعد صدر بشارالاسد کی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں نے شمال مغربی صوبے ادلب اور اس سے ملحقہ دو صوبوں حماہ اور حلب کے علاقوں میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے خلاف بڑی کارروائی نہیں کی تھی اور ان جنگجوؤں کے زیر قبضہ ادلب کے گرداگرد علاقے کو غیر فوجی قرار دے دیا گیا تھا اور وہاں سے شامی فوج اور جنگجوؤں کو پیچھے ہٹا لیا گیا تھا۔

اس کے بعد سے القاعدہ سے ماضی میں وابستہ جہادی گروپ تحریر الشام سمیت مختلف جنگجو گروپوں نے ادلب اور اس کے نواح میں اپنا کنٹرول مضبوط بنا لیا ہے جبکہ شامی صدر اس علاقے پر بھی اپنی عمل داری کی بحالی چاہتے ہیں مگر روس اس کے آڑے آرہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ جنگ بندی سمجھوتے پر عمل کیا جانا چاہیے۔