.

فلسطینی صدر اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے بعد امن کے لیے پُرامید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی صدر محمود عباس نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کے بعد مشرقِ اوسط میں امن کی راہ ہموار ہوگی۔

اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے لیے آج منگل کے روز ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔ انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق فوجی جنرل بینی گانٹز کے درمیان ان انتخابات میں سخت مقابلہ ہے۔

فلسطینی صدر نے ان دونوں امیدواروں میں سے کسی ایک کی طرف داری کے بغیر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان انتخابات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے:’’نئی حکومت اس بات کو سمجھے گی کہ امن ہم میں اور ان میں ہی ہے اور دنیا کو اس میں دلچسپی ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ ہم سب کو یہ امید ہے کہ ایک سیدھا راستہ ہوگا اور یہی راستہ امن تک جائے گا۔ہمیں ایسی کسی حکومت کی ضرورت نہیں ہے جو امن میں یقین نہیں رکھتی ہے‘‘۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کا عمل 2014ء سے معطل ہے۔فلسطینی قیادت اسرائیل پر غربِ اردن میں یہود آبادکاروں کی بستیوں کی تعمیر اور اسرائیلی قیادت کی کہہ مکرنیوں کو مذاکراتی عمل کے تعطل کا مورد الزام ٹھہراتی ہے۔صدر محمود عباس نے فلسطین کے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

تاہم انھوں نے امریکا کے ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور وہاں اپنا سفارت خانہ منتقل کرنے کے ردعمل میں روابط منجمد کر رکھے ہیں اور انھوں نے واضح کیا تھا کہ وہ امریکا کی جانب سے پیش کردہ کسی نئے امن منصوبے کے سلسلے میں کوئی تعاون نہیں کریں گے۔امریکا جلد مشرقِ اوسط میں قیام امن کے لیے اپنے اس مجوزہ منصوبے کا اعلان کرنے والا ہے۔