حوثی باغی قیدیوں کو تشدد کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارنے کے مرتکب قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

انسانی حقوق کی تنظیموں نے یمن کےایران نوازحوثی گروپ کے حراستی مراکز میں قید کیے گئے شہریوں کو تشدد اور غیرانسانی سلوک کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارے جانے کے واقعات کی شدید مذمت کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انسانی حقوق گروپ'یورو مڈل ایسٹ فار ہیومن رائٹس' کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں حوثیوں کے عقوبت خانوں میں ڈالے گئے قیدیوں سے غیرانسانی سلوک اور انہیں تشدد کرکے قتل کرنے کے واقعات کی شدید مذمت کی ہے۔

انسانی حقوق گروپ کے جنیوا میں قائم صدر دفتر سےجاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثی شدت پسند حراستی مراکز میں ڈالے گئے شہریوں کو ماورائے عدالت قتل کررہےہیں۔ اس کےعلاوہ درجنوں قیدیوں کے خلاف نام نہاد عدالتوں میں مقدمات چلا کرانہیں غیرانسانی سزائیں دلائی جا رہی ہیں۔ اس وقت بھی حوثیوں کی عدالتوں میں حراست میں لیے گئے صحافیوں، اپوزیشن کارکنوں، سماجی کارکنوں اور انسانی حقوق کے مندوبین کے خلاف جعلی الزامات کے تحت مقدمات چلائے جا رہےہیں۔ ان قیدیوں کو منصفانہ ٹرائل کی سہولت میسرنہیں۔ انہیں اپنی مرضی سے وکیل کرنے کاحق بھی نہیں۔ ایسے 36 افراد کے خلاف مقدمات جاری ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی برتائو اور قیدیوں کو دوران حراست تشدد کرکے ہلاک کیے جانے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

بیان میں شہریوں کو اغواء کے بعد انہیں پابند سلاسل کرنے اور انہیں بغیر کسی جرم کے غیرانسانی سلوک کا نشانہ بنانے کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

بیان میں کہا گیاہے کہ حوثی باغیوں نے 36 کارکنوں کو حراست میں لینے کے بعد انہیں تشدد اور شرمناک غیرانسانی سلوک کا نشانہ بنایا۔ انہیں وحشیانہ جسمانی تشدد کے بدترین حربوں کا سامنا ہے۔ قیدیوں کو لوہے کی تاروں کی مدد سے مارا پیٹا جاتا ہے اور قیدیوں کی توہین اور تذلیل کے تمام مکروہ حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ حوثیوں کے حراستی مراکز میں قیدیوں کو تنہائی میں ڈالنے، انہیں برہنہ کرنے، خوراک اور ادویات سے محروم کرنے کے ساتھ دیگر غیرانسانی حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں