.

سعودی خاتون نے تسبیح سازی کے فن میں‌کیسے جدت پیدا کی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی ایک خاتون نے تعلیم سے فراغت کے بعد تسبیح سازی کا ایک ایسا مشغلہ اختیار کیا جس نے اسے شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌کے مطابق مکہ معظمہ کا دورہ کرنے والےاکثر لوگ ایمان عجیمی کی تیارکردہ تسابیح خرید کرتے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ‌نیٹ سے بات کرتے ہوئے ایمان نےبتایا کہ اس نے یہ مشغلہ 10 سال قبل یونیورسٹی میں تعلیم سے فراغت کے بعد شروع کیا۔ اس کا کہنا ہے کہ تسبیح سازی کا شوق اس کےدل میں اس وقت پیدا ہوا جب اس کی عمر صرف 12 سال تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ میں ایک بار پرانے مکہ شہر کےایک بازار میں‌اپنے والد کےہمراہ تسابیح کے مختلف ڈیزاین دیکھنے گئے۔ اس موقع پر میری ملاقات ایک کہنہ مشق تسبیح سازبزرگ سےہوئی جنہوں‌نے میری دلچسپی کو دیکھتے ہوئے کہا کہ ایک وقت آئے گا جب تک ایک مشہور تسبیح ساز بن جائو گی۔ اس نےدوران میں‌ نے بزرگ سے بسیح کی تیاری میں استعمال ہونے والےپتھروں اور دیگر سامان کی درآمدات اور برآمدات کےحوالے سےبھی بات چیت کی۔ وقت گذرتا گیا اور میرا شوق مزید ابھرتا رہا۔

ایمان کا کہنا ہے کہ اس نے 10 سال تک یونیورسٹی میں قرآن وسنت کے مضمون میں تعلیم حاصل کی مگر تعلیم سے فراغت کے بعد وہ تدریس کے شعبے کا کسی دوسرے شعبے میں ملازمت کے بجائے اپنے پسندیدہ مشغلے تسبیح سازی میں مگن ہوگئی۔

اس کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کئی چیزیں ڈیزائن کی جاتی ہیں۔ ملبوسات کی ڈیزائننگ،جوہرات اور سنگ تراشی الگ الگ کام ہیں اور ہرکام کے لیے شوق اور پیشہ وارانہ مہارت درکار ہوتی ہے۔

اس نےبتایا کہ میں‌نے تسبیح سازی کے لیے نایاب پتھروں کا استعمال کیا۔ اس کی تیارکردہ تسبیحوں میں الکھرمان، نورالصباح، یمنی عقیق،زیتون کی لکڑاور دیگر چیزیں استعمال ہوتی ہیں۔

ایمان عجیمی کی تسبیحوں میں زرد الکھرمان، سفید کھرمان، سیاہی مائل اور سرخی مائل کھرمان کےپتھر استعمال کیےجاتےہیں۔ تیاری کےبعد 50 ریال سے 1400 ریال تک اس کی تسبیح فروخت ہوتی ہے۔