.

سعودی عرب کے 'جبال اللوز' کے بارے میں آپ کیا جانتےہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شمال مغربی علاقے تبوک کو پہاڑوں، ٹیلیوں اور سرسبز مقامات کے حوالے سے ایک خاص شہرت حاصل ہے یہاں‌کی آب وہوا، موسم، سال کے چاروں موسموں میں کاشت ہونے والے پھل، بارشیں، سردیوں میں برف باری اور پہاڑی علاقوں میں کاشت ہونے والے بادام ملک بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچے چلے آتےہیں۔

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ایس پی اے' نے تبوک کے'جبال اللوز' کےحوالے سے ایک رپورٹ میں اس علاقے میں کاشت ہونے والے بادام کے پھلوں پر روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تبوک کے وسیع وعریض علاقے میں ان دونوں بادام کے پودوں پر بہار جوبن پر ہے اور طرف بادام کے پھولوں‌کے ہرے بھرے اور لہلہاتے باغات دیکھے جاسکتے ہیں۔ بادام کے پھول ایک طرف بہار کی آمد کی خبر دیتے ہیں اور دوسری طرف مناظر قدرت کے دلدادہ سیاحوں کی آمد کا بھی پتا دیتے ہیں۔

تبوک سرسبز رابطہ گروپ کے چئیرمین طارق بن ابراہیم الحسین نے 'ایس پی اے' سے بات کرتے ہوئے کہاکہ درجہ حرارت کم ہونے کی وجہ سے تبوک کےعلاقے میں بادام کے پودوں پر پھول دیگر علاقوں کی نسبت تاخیر سے لگتے ہیں۔ اس کی وجہ اس علاقے کی مخصوص جغرافیائی کیفیت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جبال اللوز میں صرف بادام ہی نہیں بلکہ کئی دوسرے پھل دار اور پھول دار پودے موسم بہار کا پھولوں سے استقبال کرتے ہیں۔ تاہم چونکہ بڑی تعداد میں‌یہاں پر بادام کے باغات موجود ہیں۔ اس لیے یہ علاقہ 'جبل اللوز' کےنام سے جانا جاتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ابراہیم الحسین کا کہنا تھا کہ جبال اللوز اور تبوک کی سرسبز وشاداب سرزمین شہریوں کی طبی، غذائی اور اقتصادی سرگرمیوں کا بھی مرکز ہے۔ شہریوں کویہاں پر پھل دار پودوں کی افزائش کے حوالے سے رضاکارانہ سرگرمیوں میں‌بھی مصروف دیکھا جاتا ہے۔ بادام کےساتھ ساتھ یہاں پر جنگی انجیرکی بھی کاشت کی جاتی ہے۔

انہوں‌نے بتایا کہ جبال اللوز میں کاشت ہونےوالے باداموں کے بیج باقاعدہ تجربہ گاہوں سےتجربات کے عمل سےبھی گذارے جاتے ہیں۔

خیال رہے کہ تبوک کے علاقے میں واقع 'جبال اللوز' اس علاقے کا ایک قدرتی لینڈ مارک ہے۔ یہ پہاڑ سطح سمندر سے 2550 میٹر بلند اور بادام کے درختوں کی وجہ سے پورےملک میں‌مشہور ہے۔ موسم سرما میں یہ علاقہ برف میں ڈھکا رہتا ہے۔ گرمیوں، بہار اور سردیوں‌ہرموسم میں یہاں سیاحوں کی آمد جاری رہتی ہے۔ تبوک شہر سے شمال مغرب میں 200 کلو میٹر سعودی عرب کے پرفضاء اور خوبصورت مقامات میں سے ایک ہے۔

جبال اللوز میں کئی تاریخی چٹانیں ایسی پائی جاتی ہیں جن پر صدیوں پرانی عبارتوں کے نقوش موجود ہیں۔ یہ نقوش صدیوں پرانی تہذیبوں کا ثبوت ہیں۔