.

مصری بدوخاتون کی سیاحوں کو عازمین حج کی طرح رہ نمائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری کے جزیرہ نما سیناء میں ان دنوں ایک دیہاتی خاتون سیاحوں کی توجہ کا خاص مرکز ہیں۔ام سالم کے نام سے شہرت پانے والی سیاحوں کی'گائیڈ' مصری بدو عورت نے کئی سال سے جزیرے میں آنے والے خواتین سیاحوں کی رہ نمائی کا کام شروع کر رکھا ہے۔

حال ہی میں یورپ سے آنے والے خواتین کے سیاحوں کےایک گروپ نے جزیرہ سیناء میں پہنچ کر ام سالم سے رابطہ کیا۔ ام سالم نے انہیں پوری سہولت اور آسانی کے ساتھ انگریزی میں علاقے کےہاہم مقامات ، راستوں، وادیوں، گھٹاٹیوں ، تاریخی اور سیاحتی مقامات کے بارے میں رہ نمائی بہم پہنچائی۔

ام سالم ایک مقامی قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں۔ مقامی سطح پر سیاحوں کو رہ نمائی فراہم کرنے والے شخص کو 'گائیڈ' کہاجاتا ہے۔ گائیڈ سیاحت کے لیے آنے والے اجنبی سیاحوں کو اہم علاقوں، راستوں اور مقامی کھابوں‌ کے بارے میں رہ نمائی فراہم کرتا ہے۔

جزیرہ سیناء میں 'درب سینا' اینی شی ایٹیو' کا مقصد 1120 سال پرانے طریقے کو زندہ کرنا ہے۔ برسوں قبل مصر کے راستے حجاز مقدس کا سفر کرنے والے عازمین حج کو جزیرہ سیناء سے گذرتےہوئےاسی طرح رہ نمائی اور مدد فراہم کی جاتی تھی۔ اس دور میں حجاج کے قافلے شمالی افریقا سے مصر کے راستے پیدل چل کر حجاز آتے۔ جب ان کا گذر جزیرہ سیناءسے ہوتا تو وہاں کے بد قبائل ان کی مہمان نوازی کرتے، انہیں راستوں کی رہ نمائی کرتے اور سفر میں ان کی ہرممکن مدد فراہم کرتے تھے۔

جزیرہ سیناء میں خواتین سیاحوں کی رہ نمائی کا یہ سلسلہ ایک مقامی بدو قبائلی رہ نما الشیخ احمد راشد الجبالی کی جانب سے شروع کیا گیا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتےہوئےانہوں نے کہا کہ جزیرہ سیناء سے گذرنے والے قافلوں کی رہنمائی کا سلسلہ 1800 سال پرانا ہے۔ ظہوراسلام کے بعد حجاج کرام کے قافلوں کو جزیرے سے گذرتے ہوئے رہ نمائی مہیا کی جاتی تھی۔مغربی خلیج سویز سے مشرقی خلیج عقبہ تک ، وادیاں اور پہاڑی راستوں پر اجنبی لوگوں کی رہ نمائی کی جاتی۔
ان کا کہنا تھا کہ جزیرہ سیناء اپنے دامن میں کئی تاریخی اور سیاحتی مقامات کو سموئے ہوئے ہے اور لوگ دور دور سے سیاحت کے لیے یہاں آتے ہیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ جزیرہ سیناء کے 200کلومیٹر راستے کا سیاحتی سفر 40 دن تک طے ہوسکتا ہے اور مقامی قبائل کی جانب سے سیاحوں کی رہ نمائی کے لیے 60افراد کو مقرر کیا گیا ہے۔گائیڈ سیاحوں کو لاجسٹک سپورٹ مہیا کرتےہیں۔