.

پاسداران کو دہشت گرد قراردینے کے فیصلے نے ایرانی معیشت کیسے متاثر کی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سنہ 1979ء میں ایران میں برپا ہونے والےانقلاب کے بعد سابق بادشاہ کے دور میں قائم فوجی ادارے کوختم کرکے بانی انقلاب آیت اللہ خمینی کے حکم پر 22 اپریل 1979ء کو ایران میں ایک نئی فوج کی تشکیل کا اعلان کیا گیا۔ اس نئی فوج کو 'سپاہ پاسداران اسلامی انقلاب' کا نام دیا گیا۔

ایران کے دستور کے آرٹیکل 150 میں پاسداران انقلاب کو کمزوروں کی محافظ فوج کہہ اسے مکمل آئینی تحفظ فراہم کردیا گیا۔ پاسداران انقلاب ایران میں تیزی کے ساتھ پھیلتی اورریاستی اداروں میں اپنا رسوخ پیدا کرتی چلی گئی اور اب اسے ایران میں امن اور استحکام کا ذمہ دار ادارہ سمجھا جاتا ہے۔

ایران کے اقتصادی شعبےمیں‌ بھی پاسداران انقلاب نے فعال کردار ادا کیا۔ نواپریل منگل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاسداران انقلاب کو غیرملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا۔اس اعلان کے دو ہفتے قبل پاسداران انقلاب نے اپنی 40 ویں سالگرہ منائی تھی۔ امریکی حکومت کی طرف سے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دیے جانے کے اعلان کے بعد ایرانی معیشت پر فیصلے کے اثرات پر بحث جاری ہے۔ العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ‌نے بھی ایک رپورٹ میں پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے کے امریکی فیصلے کے ایرانی معیشت پر مرتب ہونےوالے اثرات کے بارےمیں ایک رپورٹ میں جائزہ لیا ہے۔

ایرا نی معیشت میں پاسداران انقلاب کا حصہ

سنہ 1989ء میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کی وفات کےبعد ایرانی رجیم نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر اور علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کو ایران کا نیا صدر منتخب کیا گیا۔ اس تبدیلی نے سپاہ پاسداران انقلاب سیاسی اثرو نفوذ میں‌ کمی کردی مگر ایرانی دستور کے آڑٹیکل 147 نے پاسداران کے لیے ایرانی معیشت میں مداخلت کا راستہ کھول دیا۔ آئین کے اس آرٹیکل میں‌قرار دیا گیا کہ امن کے زمانے میں حکومت فوج اور اس کے تکنیکی ادارو سے ریلیف، تعلیم، پیداوار، تعمیرات اور دیگر شعبوں میں تعاون سے مستفید ہوسکتی ہے۔

سنہ 1990ء میں "خاتم الانبیاء تعمیر نو ہیڈکواٹر" کا قیام عمل میں‌لایا گیا۔ اس ہیڈکواٹر کی اقتصادی سرگرمیوں کی تمام ذمہ داریاں پاسداران انقلاب کے کندھوں‌پر ڈالی گئیں۔

صدر ہاشمی رفسنجانی کے دور حکومت میں‌جنگ کے بعد پاسداران انقلاب نے امن کے دور میں ایران میں تعمیر نو کے ٹھیکوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ سنہ 1997ء سے 2005ء کےدوران ایران میں اصلاح پسند صدر محمد خاتمی کئ حکومت کے عرصے میں پاسدران انقلاب اور حکومت کےدرمیان کھچائو کی کیفیت رہی۔ اس کے باوجود پاسداران انقلاب خلیج عرب کے ساحل پر 60 چھوٹی بندرگاہوں،10 ہوائی اڈوں جن میں بیام ہوائی اڈہ بھی شامل ہے، وزارت بجلی، ڈاک اور موبائل فون کی وزارتوں سے حاصل ہونے والا ریونیو پاسداران انقلاب کو ملتا رہا۔

پاسداران کی خدمت کرنے والے وزراء

ایران میں یکے بعد دیگرے قائم ہونے والی حکومتوں کے کئی وزراء، مشیران اور دیگر اعلیٰ عہدیدار پاسداران انقلاب میں خدمات انجام دیتے رہےاور بعض اب بھی پاسداران کے اقتصادی ڈھانچے کومضبوط بنانے کے لیے کام کررہےہیں۔ ان حکومتی عمال کا ایک طرف حکومت کے ساتھ تعلق رہا اور دوسری طرف وہ پاسداران انقلاب کےٹھیکوںمیں بھی پیش پیش رہے۔
مثال کے طورپر سابق صدر محمود احمدی نژاد سنہ 2003ء اور 2004ء کےدوران تہران کے میئر رہے۔ صدر منتخب ہونے سےقبل انہوں‌ نے تہران بلدیہ میں ہونے والے تعمیراتی ٹھیکوں میں پاسداران انقلاب کےساتھ مل کر کام کیا۔ 2 ارب 20 کروڑ ڈالر کی لاگت سےسڑکوں کی تعمیر کے ٹھیکوں میں حصہ لیا۔ سنہ 2005ء میں ایران میں‌ اصلاح پسندوں کی شکست کے بعد محمود احمدی نژاد صدر بن گئے۔

پاسداران انقلاب کن شعبوں میں سرگرم رہے

ایران میں غیر فوجی شعبے اور پاسداران انقلاب کے درمیان باہمی تعاون کی ایک وجہ پاسداران انقلاب کی معاشی میدان میں سرگرمیاں بھی ہیں۔ پاسداران انقلاب اور اس کےماتحت اداروں نے صنعت، تیل، تیل، کان کنی،غیرملکی تجارت، ہائوسنگ، زراعت، بری زراعت، بحری نقل وحمل، کاروں کی صنعت اور بنکنگ جیسےشعوں میں اپنا اثرو رسوخ پیدا کیا۔
خاتم الانبیاء بریگیڈ دراصل پاسداران انقلاب کےزیراہتمام چلنے والی ہزاروں کمپنیوں‌کو حفاظتی چھتری فراہم کرتی ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق اس کےماتحت 5 ہزار کمپنیاں کام کررہی ہیں اور خاتم الانبیاء بریگیڈ میں سرکاری اور غیرسرکاری اداورں کے ساتھ 2 لاکھ اور جزوی طورپر پاسداران سے منسلک کمپنیوں‌کے ساتھ کام کرنے والے افراد کارکی تعداد ایک ملین سے زاید بتائی جاتی ہے۔

'بی بی سی' فارسی کی ایک رپورٹ کے مطابق خاتم الانبیاء ہیڈ کواٹر کےزیرانتظام پاسیج کنسٹرکشن کمپنی میں ایک لاکھ 45 ہزار پروڈکشن یونٹ کام کرتےہیں۔یہ ہیڈ کواٹر 13 مختلف شعبوں میں‌کام کرتا ہے جب کہ اس میں کام کرنے والےملازمین کی تعداد 1 لاکھ 34 ہزار سے زاید ہے۔

پاسداران انقلاب سڑکوں کی تعمیر سےمیزائل سازی تک

سنہ 2011ء سے گھر پر جبری ںظربند اصلاح پسند رہ نما میرحسین موسوی کی ویب سائیٹ کی رپورٹ کے مطابق ملک میں مخلتف اقتصادی شعبوں میں پاسداران انقلاب کے ماتحت 800 کمپنیاں کام کررہی ہیں۔ ان کمپنیوں کی نگرانی خاتم الانبیاء‌بریگیڈ کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب ایک طرف میزائل سازی کے شعبے میں کام کرتا ہے تو دوسری طرف بجلی کی ٹربائیںیں اور سڑکوں کی تعمیرات کےٹھیکےبھی لیتا ہے۔

اس کےعلاوہ ڈیموں کی تعمیر، معدنیات، پائپ لائنوں کی تنصیب اور آب پاشی جیسے شعبوں‌میں‌بھی پاسداران انقلاب کا ہاتھ ہے۔

سنہ 2009ء میں پاسداران انقلاب نے تیل اور گیس پائپ لائنیں نصب کرنے کا ٹھیکہ لیا تو پاسداران انقلاب کو 600 کلو میٹر پائپ لائن نصب کرنے کا کام سونپا گیا۔ یہ پائپ لائن ایران اور بھارت کےدرمیان بچھائی گئی۔ اس کےعلاوہ کسی نیلامی میں حصہ لیے بغیر پاسداران انقلاب نےایرانی ٹیلی کام کمپنی کے نصف شیئرجن کی مالیت 8 ارب ڈالر تھی خریدلیے۔