.

امریکا نے فلسطینی رضاکار کو اسرائیلی مقاطعہ مہم کی پاداش میں ویزہ دینے سے انکار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے بائیکاٹ کی مہم منظم کرنے والے ایک سرکردہ فلسطینی رضاکار کو امریکا داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا ۔ ایک امریکی عہدیدار نے فلسطینی رضاکار کی بائیکاٹ مہم کو اسرائیل مخالف اقدام قرار دیا ہے۔

بی ڈی ایس تحریک کے شریک بانی عمر برغوثی ہاورڈ یونیورسٹی، نیویارک یونیورسٹی اور شکاگو میں بائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والے یہودی معبد میں اپنی مہم کے سلسلے میں بدھ کے روز امریکا روانہ ہونے والے تھے کہ عین آخری وقت پر انہیں جہاز پر سوار ہونے سے روک دیا گیا۔

برغوثی نے ایک بیان میں کہا ’’کہ اسرائیل نہ صرف امتیازی سلوک ، نسلی تطہیر اورکئی دہائیوں پر محیط فوجی تسلط پر مبنی نظام کو جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ وہ اپنے برانگیختہ کرنے والے ظالمانہ طریقوں کی امریکا اور دائیں بازو کے نظریات رکھنے والے اپنے قوم پرست ساتھیوں کے توسط سے مسلسل تکمیل کر تا چلا آ رہا ہے۔‘‘

عمر برغوثی نے بتایا کہ انہیں امریکا میں اپنی اسرائیل بائیکاٹ مہم کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کے ساتھ وہاں مقیم اپنی بیٹی کی شادی میں بھی شرکت کرنا تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’’ امریکاسفر کی اجازت نہ ملنے پر میرا دل دکھا ہے، تاہم میں ڈرا نہیں ہوں۔‘‘

امریکی عرب انسٹی ٹیوٹ کے مطابق عمر برغوثی کے پاس امریکا کا باقاعدہ ویزہ تھا، جو جنوری 2021ء تک کارآمد ہے۔ تل ابیب کے بن گورین ہوائی اڈے پر فضائی کمپنی کے عملے نے انہیں بتایا کہ امریکی حکام نے ہدایت کی ہے کہ انہیں [عمر برغوثی] کو سفر کی اجازت نہ دی جائے۔

امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان رابرٹ پیلاڈینو کے مطابق ’’ان کا ملک ویزوں سے متعلق انفرادی فیصلوں کے بارے میں وضاحت جاری نہیں کرتا۔‘‘پیلاڈینو نے برغوثی کے امریکی ویزہ مسترد کئے جانے کی وجہ بتائے بغیر کہا کہ ’’ اگرامریکی قانون کے تحت سیاسی بیان اور نقطہ نظر جائز ہو تو ایسے خیالات کی بنا پر امریکی قانون ویزہ سے انکار کا حق نہیں دیتا۔‘‘

اسرائیل فلسطینی رضاکاروں کی جانب سے چلائی جانے والی بی ڈی ایس تحریک سے نالاں ہے کیونکہ اس میں صہیونی ریاست کے معاشی، ثقافتی اور تعلیمی بائیکاٹ کی اپیل کی جاتی ہے۔ بی ڈی ایس مہم غرب اردن میں قائم یہودی بستیوں میں بننے والی اشیاء کی خریداری روکنے پر زور دیتی ہے تاکہ اسرائیل کا معاشی ناطقہ بند کر کے تل ابیب کی توجہ زیر قبضہ فلسطینیوں کی حالت زار کی جانب مبذول کرائی جا سکے۔

یہودی مخالف مہم کے خاتمے کے لئے نئے امریکی سفیر ایلن کر نے برغوثی کے مقدمہ پر بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے ’’بی ڈی ایس‘‘ کو یہود مخالف تحریک قرار دینے میں پس وپیش سے کام نہیں لیا۔‘‘ اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مسٹر ایلن کر کا کہنا تھا کہ ’’کسی بھی فرد کو حق حاصل ہے کہ اسے جو چیز پسند آئے، وہ خریدے۔ تاہم اگر اسرائیلی معیشت کا گلا گھونٹنے والی کوئی بھی منظم مہم یہود مخالفت کے زمرے میں آتی ہے۔‘‘ ایلن کر نے اس امر سے اتفاق کیا کہ جمہوریت میں کسی قوم کی پالیسیوں پر تنقید مکمل طور پر درست ہے۔ تاہم ، بقول ایلن، اگر اسرائیل پر کی جانے والی تنقید ایسی ہو کہ جو انہی حالات میں کسی دوسرے ملک پر نہ کی جاتی ہو، تو یقیناً یہ یہود منافرت کہلائے گی۔