.

امریکی سینیٹ: گرفتاریوں کے ذمے دار ترک عہدے داران پر پابندیوں کے لیے قانونی بِل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سینیٹ میں ایک نیا قانونی بل پیش کیا گیا ہے جس کا مقصد اُن ترک عہدے داران پر پابندیاں عائد کرنا ہے جو ترکی میں امریکی شہریوں اور امریکی قونصل خانے کے مقامی ملازمین کی گرفتاری میں ملوث ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق بل کا مسودہ ریپبلکن سینیٹر روجر واکر اور ڈیموکریٹک سینیٹر بین کارڈن نے اپنی جماعتوں کی جانب سے پیش کیا ہے۔

بل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ ترکی پر زور دیں کہ وہ بنیادی آزادی سے متعلق امور کا احترام کرے۔ سیاسی محرکات کی بنا پر ہزاروں افراد عدالتی کارروائی کا نشانہ بن چکے ہیں۔

سینیٹر کارڈن نے مذکورہ قانونی بل کے حوالے سے ایک بیان میں کہا کہ امریکی شہریوں اور امریکی قونصل خانے کے ترکی ملازمین کو جیل بھیجنا ان افراد کے انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

ان گرفتاریوں کے سبب امریکا نے اکتوبر 2017 میں ترکی جانب سے ویزوں کی تمام درخواستیں معلق کر دی تھیں۔ اس کے نتیجے میں ترکی نے بھی مماثل اقدام کیا اور اس طرح دو طرفہ تعلقات کا بحران گہرا اور شدید ہو گیا۔

قانونی بل اس بات کا متقاضی ہے کہ امریکی شہریوں اور قونصل خانے کے ترک ملازمین کی "غير قانونی" گرفتاریوں میں ملوث ترکی کے تمام سینئر عہدے داران پر پابندیاں عائد کی جائیں۔ ان عہدے داران اور ذمے داران کا امریکا میں داخلہ ممنوع قرار دیا جائے اور امریکا میں ان کے اثاثے موجود ہوں تو انہیں منجمد کر دیا جائے۔

ترکی نے جولائی 2016 میں انقلاب کی ناکام کوشش کے بعد ہزاروں افراد کو گرفتار کیا۔ گرفتار ہونے والوں میں امریکی پادری اینڈر برینسن بھی شامل تھا جس کو اکتوبر 2018 میں رہا کر دیا گیا۔