.

حزب اللہ کے گرد امریکی گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خزانہ نے لبنان کے ایک نیٹ ورک پر نئی امریکی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیٹ ورک پر الزام ہے کہ وہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے لیے منشیات کی تجارت سے حاصل رقوم کو سفید دھن میں تبدیل کرنے میں ملوث ہے۔

امریکی وزارت خزانہ نے لبنانی باشندے قاسم شمس اور اس کے منی ایکسچینج "شمس ایکسچینج" کو اپنی بلیک لسٹ میں شامل کر لیا ہے۔

علاوہ ازیں امریکی حکومت نے نیٹ ورک پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ ہر ماہ دنیا بھر میں منشیات کی رقوم کے کروڑوں ڈالروں کی منی لانڈرنگ کر رہا ہے۔ شمس کا منی ایکسچینج لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے واسطے رقوم کی منتقلی کو آسان بناتا ہے۔

واشنگٹن کے مطابق مذکورہ نیٹ ورک دنیا کے 9 ممالک میں سرگرم ہے۔ یہ ممالک امریکا، فرانس، اطالیہ، ہسپانیہ، ہالینڈ، آسٹریلای، برزایل ، کولمبیا اور وینزویلا ہیں۔

یاد رہے کہ شمس ایکسچینج کمپنی کو لبنان کے مرکزی بینک سے پرمٹ ملا ہوا ہے۔

واشنگٹن کی جانب سے مسلسل اس بات کی عملی کوشش کی جا رہی ہے کہ منشیات کے تاجروں، منی لانڈرنگ کرنے والوں اور دہشت گردوں کو لبنان کے مالیاتی نظام میں ہر گز آنے نہ دیا جائے۔

منشیات کے مال کے ذریعے حزب اللہ کی فنڈنگ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جرمن میگزین ڈیر شبگل کی ایک سابقہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ حزب اللہ جنوبی امریکا میں منشیات کی اسمگلنگ سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔