روسی S-400 ڈیل سے چمٹے رہنے کی صورت میں ترکی کا ممکنہ خسارہ 10 ارب ڈالر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ترکی کی دفاعی صنعت ایک عشرے تک پھلنے پھولنے کے بعد اب ممکنہ طور پر بگڑتی صورت حال سے دوچار ہوتی نظر آ رہی ہے۔ اس کی وجہ ترکی کی حکومت کا زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے روسی ساختہ دفاعی نظام S-400 کی خریداری کے لیے کوشاں ہونا ہے۔ دفاعی امور سے متعلق انگریزی ویب سائٹ Defense News کے مطابق اس معاہدے پر عمل کی صورت میں ترکی اپنی سرزمین پر مذکورہ دفاعی نظام نصب کرنے والا نیٹو اتحاد کا پہلا رکن ملک بن جائے گا۔

ترکی دسمبر 2017 میں یہ اعلان کر چکا ہے کہ وہ روس سے طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل شکن فضائی دفاعی نظام حاصل کرے گا۔ اس کے بعد سے ترکی نیٹو اتحاد میں شامل حلیف ممالک کے اس مطالبے کو نظر انداز کر رہا ہے کہ S-400 ڈیل کو منسوخ کر دیا جائے۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن چند روز قبل اپنے ماسکو کے سرکاری دورے میں یہ باور کرا چکے ہیں کہ ترکی اپنی اراضی پر کسی بھی فضائی دفاعی نظام کی تنصیب کے حوالے سے خود مختار ہے۔ انہوں نے کہا کہS-400 ڈیل سے پیچھے نہیں ہٹا جائے گا۔

توقع ہے کہ روسی ڈیل پر عمل کی صورت میں ترکی کو امریکی قانونCAATSA کے تحت واشنگٹن کی جانب سے سخت پابندیوں کا سامنا ہو گا۔ امریکی کانگریس میں ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس ارکان مسلسل دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر ترکی نے روسی میزائل نظام S-400کی ڈیل کو پایہ تکمیل تک پہنچایا تو قانون سازی کے ذریعے ترکی کو امریکی F-35 لڑاکا طیاروں کی فراہمی روک دی جائے گی۔

ادھر ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اولو کی جانب سے بدھ کے روز دیے گئے بیان نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ اولو کا کہنا ہے کہ ترکی S-400 میزائلوں کی دوسری کھیپ خریدنے کے سلسلے میں روس کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ایک امریکی سفارتی ذریعے نے"Defense News" ویب سائٹ کو بتایا کہ ترکی کی صنعت پر امریکی پابندیوں کا براہ راست خسارہ غالبا 10 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گا جب کہ بالواسطہ خسارہ اس کے علاوہ ہے۔

ترکی لڑاکا طیاروں کی تیاری کے کثیر القومی پروگرامJoint Strike Fighter میں شریک ہے۔ امریکا کے زیر قیادت اس پروگرام کا مختصر نام JSF ہے۔ ترکی فِفتھ جنریشن کے 100 سے زیادہ لڑاکا طیارے خریدنے کی ڈیل پر بھی عمل پیرا ہے۔ ترکی کی بہت سی کمپنیاں JSF پروگرام کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ان میں F-35 طیارے کے ڈھانچے کی اسمبلنگ اور انجن کی تیاری میں کام آنے والے 100 سے زیادہ اجزاء بنانا شامل ہیں۔

ترکی کے مختلف شہروں میں F-35 لڑاکا طیاروں کے فاضل پرزہ جات تیار کیے جا رہے ہیں۔

غالب گمان ہے کہ امریکی پابندیوں کے ذریعے S-400 ڈیل میں شریک نمایاں ترک کمپنیوں اور خریداری کے سینئر ذمے داران کو نشانہ بنایا جائے گا۔

پابندیوں کے ضمن میں امریکا ترکی کو عسکری نظاموں کی برآمد سے متعلق تمام موجودہ اور آئندہ سمجھوتوں کو معطل کر دے گا۔ ان میں T129 ماڈل کا حملہ آور ہیلی کاپٹر شامل ہے۔

اس حوالے سے ترکی کو کسی بھی غیر ملکی خریدار کے ساتھ معاملہ طے کرنے کے واسطے امریکا کی جانب سے برآمدات کے پرمٹ حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

ترکی نے گزشتہ برس پاکستان کو T129 ماڈل کے 30 ہیلی کاپٹروں کی فراہمی سے متعلق 1.5 ارب ڈالر کا سمجھوتا کیا تھا۔ چند ماہ قبل فلپائن کی حکومت کے ساتھ بھی مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا جس کا مقصد منیلا کوT129 ماڈل کے 8 ہیلی کاپٹر فراہم کرنا ہے۔

دوسری جانب ترکی کی ہوابازی کی صنعت کے ایک ایگزیکٹو آفیشل نے تسلیم کیا ہے کہ امریکی پابندیوں سے ترکی کی صنعت کو نقصان پہنچ سکتا ہے ... تاہم یہ کہنا کہ ممکنہ خسارہ 10 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گا یہ انتہائی مبالغہ آرائی ہے جس کا مقصد ترکی کی حکومت پر دباؤ کو بڑھانا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں