غزہ میں ریلی پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے فلسطینی لڑکا جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق جمعہ کے روز غزہ میں اسرائیلی سرحد کے قریب "حق واپسی" مظاہرے پر اسرائیلی فوج نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک 15 سالہ فلسطینی لڑکا جاں‌ بحق ہوگیا۔

غزہ میں وزارت صحت کےترجمان اشرف القدرہ نے بتایا کہ مشرقی جبالیا میں فلسطینیوں‌ نے جمعہ کے بعد حق واپسی اور انسداد ناکہ بندی غزہ کے لیے جلوس نکالا۔ اس موقع پر اسرائیلی فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر براہ راست فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں ایک 15 سالہ فلسطینی میسرہ موسیٰ ابو شلوف جاں‌ بحق ہوگیا۔

ترجمان نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی وحشیانہ فائرنگ سے ایک امدادی کارکن سمیت 48 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔

نامہ نگاروں کے مطابق جمعہ کے روز غزہ اور اسرائیل کی سرحد کے قریب ہونے والے مظاہرے میں ہزاروں فلسطینیوں نے حصہ لیا مگر اس بار ماضی کے جلوسوں کی نسبت تشدد کا عنصر کم دیکھا گیا۔

ادھر غزہ میں حق واپسی مارچ کی انتظامیہ نے غزہ کی ناکہ بندی کے خاتمے اور فلسطینی پناہ گزینوں کی واطن واپسی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ فلسطینیوں کامطالبہ ہےکہ انہیں 70 سال قبل جن فلسطینی علاقوں سے بے دخل کیا گیا ان میں دوبارہ آباد ہونے کی اجازت دی جائے۔

ادھر اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعہ کے روز غزہ کی سرحد پر 4700 فلسطینیوں نے مختلف مقامات پر مظاہرے کیے۔ قابض فوج کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں نے کئی مقامات پر سرحدی باڑ عبور کرنے کی کوشش کے ساتھ فوج پر سنگ باری کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں