.

داعش کے چنگل سے رہائی پانے والے نو عمر لڑکوں سے العربیہ کا بالمشافہ ٹاکرا : قسط 2

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش کے نظام حکومت میں نو عمر لڑکوں کا کیا کردار تھا؟ وہ ان کے چنگل میں کیسے پھنسے تھے، اس بارے میں شام میں گرفتار کیے گئے داعش کے سابق جنگجوؤں نے العربیہ سے بالمشافہ گفتگو کی ہے۔داعش نے تو انھیں ہتھیار چلانے اور لوگوں کو قتل کرنے کی تربیت دی گئی لیکن اب وہ بحالی مراکز میں زیر تربیت ہیں اور وہ انتہا پسندوں سے جڑے اپنے خوف ناک ماضی سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کررہے ہیں۔

العربیہ نے داعش سے وابستہ رہنے والے ایسے چار لڑکوں کے انٹرویو کیے ہیں۔انھوں نے انتہا پسند گروہ کے زیر سایہ زندگی کے بارے میں ہوشربا انکشافات کیے ہیں اور یہ بتایا ہے کہ وہ کیسے داعش کی صفوں میں شامل ہوئے تھے اور ان کے تربیتی مراحل کیا رہے تھے؟

ان میں ایک سولہ سالہ لڑکے محمد نے بتایا کہ ’’ ہم لوگ انڈونیشیا سے ایک پرواز کے ذریعے تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں اترے تھے ۔اس کے بعد ہم ترکی کے شہر استنبول پہنچے اور وہاں سے جرابلس کی گذرگاہ سے شام میں داخل ہوئے تھے‘‘۔

وہ بتاتا ہے کہ ’’ داعش کے تحت زندگی بہت کٹھن تھی ، ہم مسلسل خوف زدہ اور سہمے ہوئے رہتے تھے۔ہر روز ہی فضائی حملے ہوتے تھے اور رات کو سوتے وقت بھی ڈر سا لگا رہتا تھا‘‘۔

فیصل نامی ایک اور لڑکے نے بتایا کہ ’’وہ شام کے مشرقی شہر دیرالزور کا رہنے والا ہے۔جب داعش عراق سے شام میں داخل ہوئے اور انھوں نے ہمارے علاقے پر قبضہ کرلیا تو ہمارا خاندان بھی اس میں شامل ہوگیا۔ہم نے عسکری تربیت حاصل کی اور شریعت کی تعلیم کے لیے کلاسیں لیتے رہے تھے۔ہم نے قرآن پڑھنا سیکھا اور انھوں نے ہمیں بعض فوجی چیزیں سکھائی تھیں‘‘۔اس لڑکے کا کہنا تھا کہ ’’ مجھے یہ سکھایا گیا تھا کہ آزادی کے مزے اڑانے والے لوگوں کو کیسے قتل کرنا ہے‘‘۔

جب العربیہ کی رولا الخطیب نے اس سے پوچھا کہ وہ ان کی موجودگی پر ایک انتہا پسند گروپ کے رکن کی حیثیت سے کیا ردعمل ظاہر کرے گا تو اس کا کہنا تھا کہ ’’انھوں ( داعش) نے ہمیں جو کچھ سکھایا ہے،اس کے مطابق تو آپ کو مرجانا چاہیے‘‘۔ تاہم ا س نے اعتراف کیا کہ داعش سے علاحدگی کے بعد سے اس کی سوچ اور فکر میں تبدیلی رونما ہوئی ہے اور اب میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ ’’ آپ کو مکمل طور پر آزاد ہونا چاہیے اپنی زندگی بسر کرنی چاہیے‘‘۔

داعش کے زیر قبضہ شام کے قصبے حاجن سے تعلق رکھنے والے ایک لڑکے عبیدہ نے بتایا کہ ان کی حکمرانی میں سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔ مجھ پر انتہا پسند گروپ کے ہتھیار چرانے کا الزام عاید کیا گیا تھا اور پھر سب کے سامنے انھوں نے میرے ہاتھ کاٹ دیے تھے۔

عبیدہ کے بہ قول ’’ داعش نے میرا ہاتھ کاٹنے کے بعد میرا ٹھٹھا اڑانا شروع کردیا تھا ۔انتہا پسند گروپ نے ہدایت جاری کی تھی کہ جو کوئی بھی نماز ادا نہیں کرے یا روزہ نہیں رکھے گا تو اس کو سزا دی جائے گی اور اگر کوئی عورت حجاب نہیں اوڑھتی تو اس کو کوڑے مارے جاتے تھے۔

15 سالہ مصطفیٰ داعش کے ایک سابق اعلیٰ امیر کا بیٹا ہے ۔وہ بتاتا ہے کہ اس باپ لوگوں کے سرقلم کرنے والے گروپ کا انچارج تھا۔اس نے پیش کش کی ہے کہ وہ کٹے ہوئے سروں کی تلاش میں مدد دے سکتا ہے۔

داعش کی صفوں میں شامل ہوکر لڑنے والے لڑکوں کو گرفتار ی کے بعد حوری مرکز میں منتقل کردیا گیا ہے۔اس کا مقصد داعش کے سابق بچوں کی بحالی ہے۔اس مرکز کے ایک نمایندہ کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد بچوں کا تحفظ اور انھیں تعلیم کے مواقع مہیا کرنا ہے مگر وہ ابھی تک اساتذہ اور نگرانوں بالخصوص خواتین کو تسلیم نہیں کرتے ہیں کیونکہ ان کا کردار آج بھی القاعدہ کے نظریے پر مبنی ہے۔اس لیے انھیں معاشرے کا مفید شہری بنانے کے لیے تربیت دی جارہی ہے۔