.

ابو ظہبی: آتشزدگی کے نتیجے میں 6 پاکستانی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے دارلحکومت ابوظہبی کے ایک ولا میں گزشتہ روز اچانک آگ بھڑک اُٹھی جس نے پوری عمارت کواپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ واقعے میں 6 پاکستانی جاںبحق ہوئے جن میں سے 4 کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔

خلیج ٹائمز کے مطابق ابوظہبی میں واقع ایک ولا کے ایک کمرے میں اچانک آگ بھڑک اُٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے کمرے سمیت پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ فائر بریگیڈ کے پہنچنے سے پہلے ہی ولامکمل طور پر خاکستر ہوگیا تھا۔

ولا میں موجود باقی تمام افراد محفوظ رہے لیکن جس کمرے میں آگ لگی اُس میں موجود 6 پاکستانی جان کی بازی ہار گئے۔ ان میں 3 بھائی محمد فاروق، عمر فاروق، خرم فاروق اور اُن کا کزن علی حیدر کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا جبکہ خیال افضال اور عید نواز خان بھی جاں بحق ہونے والوں میں شامل ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے 3 بھائیوں محمد فاروق، عمر فاروق اور خرم فاروق کے ایک قریبی دوست ناصر کبیر خان نے میڈیا کو بتایا کہ خیبر پختون خواہ سے تعلق رکھنے والے تینوں بھائیوں کے ورثاء کو اس المناک واقعےکی خبر دینا بہت دردناک تھا۔ دوست نے بتایا کہ ان تین میں سے دو بھائی عمر اور خرم شادی شدہ تھے۔

ناصر کبیر خان نے بتایا کہ محمد ، عمر اور خرم کی والدہ کو اس واقعے سے ایک روزقبل شدید ہارٹ اٹیک ہوا تھا اور واقعے کے وقت وہ اسپتال میں داخل تھیں جبکہ ان کے بیٹوں کو نہیں معلوم تھا کہ اُن کی والدہ کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے اور اسپتال میں داخل ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آتشزدگی میں جاں بحق ہونے والے بھائیوں کے پاکستان میں مقیم رشتہ داروں کو آتشزدگی کی خبر سوشل میڈیا سے موصول ہوئی تو انہوں نے متحدہ عرب امارات میں موجود اُن کے دوستوں اور رشتہ داروں سے رابطہ کیا جس کے بعد اُنہیں ان کی موت کی اطلاع دی گئی۔

دوسری جانب بھائیوں کے رشتہ داروں نے بتایا کہ ان کی والدہ اور بیویوں کو بھی ابوظہبی میں آگ کی لگنے کی خبر ہوگئی تھی لیکن انہوں نےاُن کے سامنے اس خبر کو جھوٹا اور افواہ کہہ کر ٹال دیا لیکن سچ زیادہ دیر چھپ نہیں سکا اور والدہ سمیت اُن کی بیویوں کو بھی اپنے شوہروں کی موت کا معلوم ہوگیا۔

محمد، عمر اور خرم کے دوست نے اُن کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ تینوں بھائی ابو ظہبی میں فرنیچر کا کام کرتے تھے۔ عمر اور خرم کی شادی چھ ماہ قبل پاکستان میں ہوئی تھی جبکہ خاندان کے والد فاروق دیگر 4 بچوں اور بیوی سمیت چند ماہ قبل واپس پاکستان آگئے تھے۔