.

داعش کی عورتوں کا کیا کردار تھا؟ اب وہ کیا کہتی ہیں؟العربیہ سے بالمشافہ گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق میں داعش کے مختصر دورِ اقتدار میں خواتین اپنے ساتھ جنگجوؤں کے مظالم ہی کی کہانیاں بیان کرتی ہیں اور انھیں سب سے زیادہ متاثرہ فریق سمجھا جاتا رہا ہے لیکن خود داعش کی عورتوں نے العربیہ کی نمایندہ سے گفتگو میں ایک مختلف کہانی بیان کی ہے۔

العربیہ کی نمایندہ رولا الخطیب نے داعش کے جنگجوؤں ، خواتین اور بچوں سے گفتگو کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ داعش کی خواتین کے ساتھ ان کا وقت جسمانی اور نفسیاتی لحاظ سے ’’ تشدد زدہ‘‘ رہاہے اور انھوں نے تشدد آمیز رویہ اپنایا تھا۔

العربیہ کی خصوصی سیریز ’’ داعش سے بالمشافہ ٹاکرے ‘‘ کے تحت رولا الخطیب نے شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف) کے زیر انتظام الحول کیمپ میں زیر حراست خواتین سے مکالمہ کیا ہے۔

داعش کے خاندانوں کی ان خواتین نے سیاہ رنگ کے برقع اوڑھ رکھے تھے ۔انھوں نے باڑ ھ کے اندر سے العربیہ سے اپنے نظریے کے بارے میں گفتگو کی ہے ۔الحول کیمپ کی سول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ ابھی تک اسی نظریے پر عمل پیرا ہیں۔

العربیہ نے ’’ داعش سے بالمشافہ ‘‘ ٹاکرے کی گذشتہ اقساط میں شام کے مشرقی قصبے الباغوز میں گرفتار کیے گئے یا ہتھیار ڈالنے والے جنگجوؤں سے گفتگو کی تھی۔اس کے علاوہ داعش کی صفوں میں شامل بچہ فوجیوں یعنی نو عمر لڑکوں سے گفتگو کی گئی تھی۔داعش نے انھیں ہتھیار چلانے اور لوگوں کو قتل کرنے کی تربیت دی تھی لیکن اب وہ بحالی مراکز میں زیر تربیت ہیں اور وہ انتہا پسندوں سے جڑے اپنے خوف ناک ماضی سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کررہے ہیں۔

ان لڑکوں نے انتہا پسند گروہ کے زیر سایہ زندگی کے بارے میں ہوشربا انکشافات کیے ہیں اور یہ بتایا ہے کہ وہ کیسے داعش کی صفوں میں شامل ہوئے تھے اور ان کے تربیتی مراحل کیا رہے تھے؟ ان میں محمد نامی ایک سولہ سالہ لڑکے نے بتایا تھا کہ ’’ داعش کے تحت زندگی بہت کٹھن تھی ، ہم مسلسل خوف زدہ اور سہمے ہوئے رہتے تھے۔ہر روز ہی فضائی حملے ہوتے تھے اور رات کو سوتے وقت بھی ڈر سا لگا رہتا تھا‘‘۔