.

شام : بشار حکومت کے زیر کنٹرول علاقے زبوں حالی کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشار کی فورسز کے زیر کنٹرول علاقوں میں زندگی ملک کے اُن دیگر شہروں سے مختلف ہے جہاں "سیرین ڈیموکریٹک فورسز" (ایس ڈی ایف) یا انقرہ نواز عسکری گروپوں یا جہادی تنظیموں کا کنٹرول ہے۔

شامی حکومت کی فورسز اکثر شہروں کے مرکزی حصوں کا کنٹرول رکھتی ہیں۔ ان میں حلب، حمص، حماہ، لاذقیہ، طرطوس، درعا، دیر الزور، سویداء اور دارالحکومت دمشق شامل ہے۔

دارالحکومت میں پٹرول کے بحران میں اضافے کے ساتھ ساتھ شامی حکومتی فورسز کے زیر کنٹرول دیگر علاقوں کے اکثر لوگ روز مرہ زندگی کے لیے ضروری خدمات کی قلت کے شاکی نظر آتے ہیں۔

عمر کی چوتھی دہائی میں موجود ایک خاتون نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ "حمص اب وہ شہر نہیں رہا جس کو وہ طویل عرصے سے جانتی تھی۔ جنگ نے اس کی شکل اور یادگار نشانیوں کو ہی بدل ڈالا"۔ خاتون کے مطابق بجلی کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک منقطع رہتا ہے اور بعض دن ہم بجلی کے بغیر ہی گزارتے ہیں۔ علاوہ ازیں بعض دفعہ روٹی اور بچوں کا دودہ میسر آنے میں بھی دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔

حمص میں وسیع پیمانے پر تباہی کے مناظر نظر آتے ہیں جہاں سرکاری فوج کے دوبارہ کنٹرول سے قبل اپوزیشن گروپوں اور بشار کی فوج کے درمیان گھمسان کی لڑائی ہوئی۔

مقامی آبادی کے لیے صرف بنیادی خدمات کی عدم دستیابی ہی مرکزی مسئلہ نہیں بلکہ بعض "مسلح جماعتوں" کے وجود نے بھی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ یہ جماعتیں اسلحے کے زور پر لوگوں سے لوٹ مار کرتے ہیں۔

حمص شہر کے مرکز کے قریب مقیم ایک تیس سالہ نوجوان کا کہنا ہے کہ "سیکورٹی تو مفقود ہے ... آپ کو نہیں معلوم کہ کون کب آپ کو لُوٹ لے گا ؟ ... حمص میں اغوا برائے تاوان کی بہت سی وارداتیں ہوئی ہیں جن کے ذریعے اغوا کاروں نے مالی رقوم حاصل کیں"۔

نوجوان نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ ان میں بعض مسلح جماعتیں بشار کی فورسز کی مقرب ہیں۔

حمص میں ہی بعض نوجوان عسکری خدمت کی انجام دہی سے انکار کر کے اپنے گھروں میں رہتے ہیں۔ تاہم ان کو ہر دم عسکری پولیس کے چھاپوں کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔

اس سلسلے میں ایک نوجوان نے اپنے جذبات کا اظہار اس طرح کیا "میری زندگی ختم ہو چکی ہے۔ میں سفر بھی نہیں کر سکتا اور نہ شامی فوج میں لازمی عسکری خدمت انجام دینا چاہتا ہوں"۔

سویداء شہر کے بھی نوجوانوں کا حال حمص میں اپنے ہم عمروں سے مختلف نہیں۔ یہاں ہزاروں نوجوانوں نے لازمی عسکری خدمت انجام دینے سے انکار کر دیا ہے۔

ادھر درعا شہر میں شامی حکومت نوجوانوں کو اپنی فوج کی صفوں میں شامل کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔ سویداء کے مقابلے میں حمص اور درعا میں تباہی بہت زیادہ نظر آتی ہے۔ اس لیے کہ سویداء میں فوجی آپریشن نہیں ہوا۔

اگر حمص اور درعا میں انفرا اسٹرکچر کی تباہی، انسانوں کے قتل اور جبری ہجرت کی صورت میں بھرپور نقصان واقع ہوا تو لاذقیہ اور طرطوس میں بھی انسانی خسارہ کچھ کم نہیں ہوا۔ اگرچہ ان دونوں شہروں میں ماضی میں کوئی عسکری آپریشن دیکھنے میں نہیں آیا۔

لاذقیہ اور طرطوس کے ہزاروں نوجوانوں نے شامی فوج کی صفوں میں شامل ہو کر ،،، اپوزیشن گروپوں ، داعش تنظیم اور النصرہ فرنٹ کے خلاف معرکہ آرائی میں اپنی جانیں گنوا دیں۔

لاذقیہ کے دیہی علاقے کی ایک خاتون کے مطابق اس علاقے میں بیوہ خواتین کا تناسب کافی زیادہ ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے خاتون نے کہا کہ " ہمارے جانی نقصانات کے باوجود حکومت ہمارے لیے اچھی طرح خدمات پیش نہیں کر رہی۔ ہم اس صورت حال کے عادی ہو چکے ہیں"۔

ان شہروں میں بسنے والے اکثر لوگ بجلی اور ایندھن جیسی بنیادی خدمات کی قلت اور بعض مرتبہ مکمل طور پر نایاب ہونے کی شکایت کرتے ہیں۔ تاہم بشار حکومت اپنی جانب سے اس معاملے میں غفلت اور کوتاہی کا اعتراف کرنے سے انکار کرتی ہے۔

بشار حکومت کے وزیر خزانہ مامون حمدان نے بعض اشیاء اور سامان کی اسمگلنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے پیر کے روز کہا کہ "شام میں اسمگلنگ کا کوئی جواز نہین ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "شہریوں کی ضرورت کی ہر چیز کو یقینی بنایا گیا ہے۔ صنعت اور پیداوار کے لیے مطلوب اشیاء کی وافر مقدار میں فراہمی کو درآمدات کی اجازت کے ذریعے پورا کیا جا رہا ہے"۔