.

داعش سے بالمشافہ گفتگو : شامی حکومت اور ترکی جنگجو گروپ سے تیل کے خریدار تھے! قسط 4

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ داعش شام اور عراق میں اپنے زیر قبضہ کنووں سے نکلنے والا تیل کسی اور کو نہیں، شامی حکومت اور ترکی کو فروخت کرتا رہا تھا ۔

یہ بات داعش کی تیل اور گیس کی انتظامیہ میں کام کرنے والے ابو تراب الکندی نامی ایک عہدہ دار نے العربیہ کی سینیر رپورٹر رولا الخطیب کو خصوصی انٹرویو میں بتائی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ میں جانتا ہوں ، وہ ( داعش) شامی رجیم کی طرح دوسری ریاستوں کو بھی تیل فروخت کرتے رہے تھے۔اس کے علاوہ وہ دوسرے گروپوں کو بھی تیل فروخت کرتے رہے ہیں‘‘۔

بن لادن اطالوی نامی داعش کے ایک اور سابق جنگجو نے بھی العربیہ سے گفتگو میں یہ کہا تھا کہ ’’داعش پڑوسی ملک ترکی کو تیل بیچتے رہے تھے اور یہ بات ہر کوئی جانتا تھا ‘‘۔

العربیہ کی نمایندہ نے یہ تمام انٹرویوز شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف) کے زیر انتظام ایک جیل میں بند داعش کے سابق جنگجوؤں سے کیے ہیں۔اس جیل میں ایک ہزار کے لگ بھگ سابق داعشی زیر حراست ہیں ۔ان میں کی کثیر تعداد کو شام کے مشرقی قصبے الباغوز پر کنٹرول کے لیے کارروائی کے دوران میں گرفتار کیا گیا تھا اور بہت سوں نے خود ایس ڈی ایف کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔

ان مکالموں سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ داعش میں شامل عراقیوں اور غیرملکی جنگجوؤں میں کھینچا تانی اور مخاصمت پائی جاتی تھی ۔ایس ڈی ایف کی تحقیقات کے مطابق داعش کے زیادہ تر ’’امیر‘‘ تارکین ِ وطن یا غیرملکی تھے۔تاہم داعش کے غیر ملکی جنگجو متعدد مرتبہ ان انٹرویوز میں یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ داعش کی قیادت کی لڑی میں سب سے نچلے درجے میں تھے اور ان کے انچارج لوگ عراقی تھے کیونکہ وہ ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے تھے۔

داعش اپنے مختصر دورِ حکمرانی میں غیرملکی شہریوں ، صحافیوں اور پادریوں وغیرہ کو گرفتار اور اغوا کرتے رہے تھے۔ان میں سے بعض کو انھوں نے بے دردی سے قتل کردیا تھا ، بعض کو رہا کردیا تھا لیکن ان میں سے بہت سوں کے بارے میں ابھی تک کچھ معلوم نہیں کہ اس وقت وہ کہاں ہیں؟ وہ زندہ بھی ہیں یا موت کی وادی میں اتر چکے ہیں۔

ایس ڈی ایف کی تحقیقات کے مطابق اس حوالے سے تمام معلومات داعش کے زیر انتظام جیلوں کے ذمے دار ایک عہدے دار کے پاس ہیں اور وہ ابھی تک نامعلوم ہی ہے۔