.

سعودی شہری کا قصّہ جس نے "کافی" کی خاطر تدریس کا شعبہ چھوڑ دیا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جبران محمد المالکی ... سعوی عرب کے صوبے جازان سے تعلق رکھنے والے شہری ہیں۔ انہوں نے 20 برس تک عربی زبان کے استاد کے طور پر فرائض انجام دینے کے بعد Coffee سے اپنے والہانہ شغف کی جانب واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا۔ اب وہ کافی کی کاشت اور اس کی خرید و فروخت کے کام میں مصروف رہتے ہیں۔

المالکی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے خصوصی گفتگو میں کافی کی کاشت سے اپنے عشق کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ "کافی کی محبت مجھے اپنے مرحوم والد سے ورثے میں ملی۔ تعلیم کے سیکٹر میں کام کے دوران کوئی دن ایسا نہ گزرتا جب میری یہ تمنا نہ ہوتی ہو کہ میں کافی کی کاشت کے مشغلے کی طرف لوٹ جاؤں"۔

المالکی کے مطابق انہوں نے اپنے والد کی جانب سے ملی ہوئی زمین اور علاقے کی کچھ مزید زمین لے کر تمام اراضی کو کافی کے کھیت میں تبدیل کر دیا۔ اب یہ جازان صوبے میں بنی مالک کے علاقے میں کافی کے کاشت کاروں اور متوالوں کے لیے ایک معروف جگہ بن چکی ہے۔

المالکی نے مزید بتایا کہ ان کا کھیل سال میں ایک مرتبہ پیداوار دیتا ہے اور یہ حج کے سیزن کے بعد ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ "میرے پاس 6 ہزار درخت ہیں جن میں 1000 درخت پیداوار دیتے ہیں۔ ہر درخت 3 کلو گرام کافی پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح میں مخصوص کافی کی کاشت کرتا ہوں اور اس کو سرمایہ کاروں کو فروخت کرتا ہوں"۔

المالکی کے مطابق جازان کی زمین کافی کی کاشت کے لیے مناسب اور موزوں ہے۔ اس لیے کہ یہ سطح سمندر سے بلند ہے اور کافی کی کاشت کو درجہ حرارت، ٹھنڈک اور پانی کی فراہمی کے حوالے سے مناسب ماحول اور آب و ہوا کی ضرورت ہوتی ہے .. "یہ چیزیں جازان میں دستیاب ہیں۔ میرا کام ابھی تک ذاتی کوشش ہے اور میں وزارت زراعت کے ساتھ تعاون کا خواہش مند ہوں"۔ عملي جهد ذاتي، كما أنني أتمنى التعاون مع وزارة الزراعة".

اپنی پیداوار کے حوالے سے المالکی نے بتایا کہ "میں کافی کی تمام اقسام پیش کرتا ہوں جن میں عربی، ترک اور امریکی شامل ہیں ... اور میں اب بھی کافی کے میدان میں اپنے تجربے کو بڑھانے کی کوشش میں ہوں جس کا صارفین کی جانب سے بہت اچھا رد عمل سامنے آیا ہے"۔

جازان صوبے کے نائب گورنر شہزادہ محمد بن عبدالعزیز بن محمد بن عبدالعزیز نے ضلع بنی مالک کا دورہ کیا تھا جس کے دوران وہ سعودی شہری جبران محمد المالکی کے کھیت پر بھی گئے۔