.

مصر : صدر السیسی کے اقتدار میں توسیع کے لیے 20-22 اپریل کو ریفرینڈم کے انعقاد کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے الیکشن کمیشن نے آئینی ترامیم پر 20 اور 22 اپریل کو ملک میں ریفرینڈیم کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ ان ترامیم کی منظوری کی صورت میں صدر عبدالفتاح السیسی 2030ء تک برسراقتدار رہ سکیں گے۔

آئین میں مجوزہ ایک ترمیم کے تحت مصری پارلیمان اب دو ایوانوں پر مشتمل ہوگی اور ایک ایوان بالا قائم کیا جائے گا۔ موجودہ یک ایوانی پارلیمان نے منگل کے روز اس ریفرینڈم کے انعقاد کی منظوری دی تھی۔

اگر عوامی ریفرینڈم میں ان ترامیم کی منظوری دے دی جاتی ہے تو صدر عبدالفتاح السیسی کی موجودہ مدتِ صدارت کو چار سال سے بڑھا کر چھے سال کردیا جائے گا ۔اس کی تکمیل کے بعد وہ چھے سال کی ایک اور مدت کے لیے صدارتی انتخاب میں حصہ لے سکیں گے۔

ان آئینی ترامیم کے تحت صدر کو عدلیہ میں اعلیٰ عہدوں پر تقرر کا اختیار حاصل ہوجائے گا اور فوج کے کردار کو مضبوط بنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ عبدالفتاح السیسی جولائی 2013ء میں کالعدم الاخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے ملک کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کا تختہ الٹ کر اقتدار میں آئے تھے ۔تب وہ مسلح افواج کے سربراہ اور وزیر دفاع تھے۔ایک سال کے بعد 2014ء میں وہ پہلی مرتبہ چار سال کی مدت کے لیے مصر کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ 2018ء میں وہ دوسری چار سالہ مدت کے لیے صدر منتخب ہوئے تھے۔

ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انھیں مزید وقت دینے کے لیے آئین میں یہ ترامیم ناگزیر ہیں تاکہ وہ بڑے ترقیاتی منصوبوں اور اقتصادی اصلاحات کو پایہ تکمیل کو پہنچا سکیں مگر ان کے ناقدین انھیں مزید مطلق العنان اختیارات کا حامل حکمراں بنانے کے حق میں نہیں۔وہ ان پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور شہری آزادیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے الزامات عاید کرتے ہیں۔

مصر کی 596 ارکان پر مشتمل پارلیمان نے کثرت رائے سے ان آئینی ترامیم کی منظوری دی تھی اور ان کے حق میں 531 ارکان نے ووٹ دیا تھا جبکہ صرف 22 ارکان نے ان کی مخالفت کی تھی۔پارلیمان میں صدر السیسی کے حامیوں ہی کا کنٹرول ہے۔