.

'ناراض بیوی' کا شوہرجنت میں داخل نہیں ہوگا: مصری عالم کا فتویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی جامعہ الازھر کے ایک سرکردہ عالم دین نے متنازع فتویٰ صادر کیا ہے جس پر سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کے مطابق جامعہ الازھر کے عالم دین الشیخ محمد ابو بکر نے ایک ٹیلی ویژن کو دیے گئےانٹریو میں‌ کہا کہ 'جب تک بیوی ناراض رہے گی اس کا شوہرجنت میں داخل نہیں ہوگا۔ جنت میں جانے کے لیے شوہرکوبیوی کی خوشنودی حاصل کرنا ضروری ہے۔ انہوں‌نے کہا کہ مرد اس وقت تک جنت میں‌ نہیں جائے گا جب تک اس کے اخلاق سے اس کی بیوی خوش نہ ہو۔اگر بیوی ناراض ہوگی تو فرشتے اس کے شوہر پر لعنت کریں گے۔اس لیے مردوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی بیگمات جنت میں داخلے کا دروازہ ہیں'۔

الشیخ ابو بکر کے اس متنازع بیان کے سامنے آنے کے فوری بعد اس پر سوشل میڈیا پر سخت رد عمل سامنے آنا شروع ہوگیا۔ ناقدین کا کہنا ہےکہ جامعہ الازھر کےعالم دین نے سستی شہرت کے حصول کے لیےمتنازع فتویٰ صادر کیا ہے، حالانکہ اس حوالےسےقرآن کریم اور احادیث رسول میں ایسی کوئی نص قطعی موجود نہیں ہے۔

درایں اثناء جامعہ الازھر کے الشریعہ کالج کے ڈین ڈاکٹر سیف رجب نے جامعہ الازھر کےعالم دین کے فتوے کو مسترد کردیا ہے۔ان کا کہنا ہےکہ زوجین کےدرمیان تعلق اسلامی شریعت کا حصہ ہے اور اس حوالےسے قطعی نصوص موجود ہیں مگر دونوں کے اپنے اپنے حقوق وفرائض ہیں۔ حسن خلق کسی ایک کی ذمہ داری نہیں‌بلکہ دونوں‌کی ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے کی خیانت سے منع کیا گیا اور بیوی کو شوہر کی اطاعت کا حکم دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ قرآن اور احادیث میں میاں‌بیوی کی ایک دوسرے کے ساتھ بدسلوکی پر روز محشر حساب کتاب کی بات کی گئی ہے مگر یہ بات کہیں بھی موجود نہیں کہ شوہر کی بدسلوکی سے اس پر جھنم واجب ہوگی اور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔