.

مارٹن گریفتھس الحدیدہ سے متحارب فریقین کے چند ہفتے میں‌ انخلاء کے لیے پرامید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس نے توقع ظاہر کی ہے کہ یمن کےمتحارب گروپ ساحلی شہر الحدیدہ اوربندرگاہ سے چند ہفتوں کے اندر اندر نکل جائیں گے اور علاقے کا کنٹرول اقوام متحدہ کے امن مشن کے سپرد کر دیا جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌کے مطابق جمعرات کےروز اقوام متحدہ کے ایلچی نےایک بیان میں کہاکہ ابھی تک الحدیدہ میں اقوام متحدہ کی فورسز کی تعیناتی کے طریقہ پر اتفاق رائے نہیں‌ہوسکاہے تاہم ہماری کوشش ہے کہ یہ کام چند ہفتوں کے اندر اندر پایہ تکمیل تک پہنچ جائے۔

مارٹن گریفتھس نے کہا کہ یمن کےمتحارب فریقین چند ہفتوں کےاندر اندر الحدیدہ سے اپنی فورسز نکال لیں گے۔ان کا کہنا تھا الحدیدہ سےانخلاء ہی چار سال سے جاری جنگ کےخاتمے اورمذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔

انہوں‌نے کہاکہ یمن می آئینی حکومت اور ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کی حکومت نے الحدیدہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے نفاذ سے اتفاق کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ عن قریب الحدیدہ سے اپنی فورسز نکال لیں گے۔ ان کا کہنا تھاکہ دونوں متحارب فریقین نے الحدیدہ میں اقوام متحدہ کی فوج کی تعیناتی سے اتفاق کیا ہے

سلامتی کونسل کےاجلاس کے موقع پر بات کرتے ہوئے انہوں‌نے کہاکہ الحدیدہ کے معاملے میں پیش رفت کےبعد ملک میں سیاسی عمل کےلیے مذاکرات کا آغازہوسکتا ہے۔اس وقت ہماری توجہ الحدیدہ میں جنگ بندی معاہدے کے نفاذ پر مرکوز ہے۔