.

المخلافی نے حوثیوں کے ساتھ بوگس امن کو ہوا دینے سے خبردار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی صدر کے مشیر اور سابق وزیر خارجہ عبدالملک المخلافی نے باغی حوثی ملیشیا کے ساتھ بوگس امن کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔

المخلافی نے کہا کہ حوثی جماعت کو جنگ کے سوا کئی زبان سمجھ نہیں آتی۔ یہ اپنی ہزیمت سے چند لمحے قبل بھی اپنے مواقف کے حوالے سے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرے گی تا کہ مذاکرات کے سلسلے میں بہتر پوزیشن حاصل کر سکے۔

المخلافی نے باور کرایا کہ حوثیوں کے کیمپ میں ایسی کوئی شخصیت نہیں جو آئینی حکومت کی جانب سے امن کے لیے بڑھائے گئے ہاتھ کے مقابل اپنا پیش کرے۔

دوسری جانب یمن کے وزیر خارجہ خالد الیمانی نے کہا ہے کہ یمن کا بحران آخری مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جو جلد ہی ختم ہوجائے گا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اپنے ایک بیان میں خالد الیمانی نے کہا کہ یمن کے بحران کو ختم کرنے کے لیے حکمت اور دانش مندی کی ضرورت ہے۔

انہوں‌ نے کہا کہ تاریخ میں ہر بحران کا اختتام مذاکرات کے نتیجے میں ہوا ہے۔ الیمانی نے خبردار کیا کہ ایران نوازحوثی باغیوں کی ہٹ دھرمی کے باعث سویڈن معاہدہ ناکام ہو سکتا ہے۔ اس سمجھوتے میں حوثی ملیشیا الحدیدہ سے انخلاء اور شہر کو آئینی حکومت کے حوالے کرنے پر تیار ہوگئی تھی، مگر اب وہ اس سے مکر رہی ہے۔

دو روز قبل یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلیچی مارٹن گریفیتھس نے کہا تھا کہ الحدیدہ میں جنگ بندی معاہدے پر چند ہفتوں کے دوران عمل درآمد کر لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ متحارب فریقین الحدیدہ سے انخلاء کے لیے تیار ہوگئے ہیں۔