.

بنگلہ دیش: طالبہ کو زندہ جلائے جانے کے دلخراش واقعے کے خلاف احتجاج جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بنگلہ دیش کے ایک مدرسے میں نصرت جہاں رفیع نامی لڑکی کو تیل چھڑک کے آگ لگائے جانے کے وحشیانہ اقدام کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین فوری طور پر نصرت جہاں کے قاتلوں کو عبرت ناک سزا دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دی گئی تھی۔

خیال رہے کہ دو ہفتے قبل 19 سالہ نصرت جہاں نے اپنے مدرسے کے ہیڈ ماسٹر کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کرنے کی درخواست دی تھی، جس کے بعد اسے بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا گیا۔ وزیراعظم حسینہ واجد نے نصرت جہاں کے قاتلوں کو کٹہرے میں لانے کا عہد کیا ہے مگر اس کے باوجود ملک بھر میں اس وحشیانہ فعل کے خلاف لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

جنسی ہراسیت کے خلاف بات کرنے کی اس کی جرات کے پانچ دن بعد ہی اس کو زندہ جلا دینے اور اس دوران جو کچھ ہوا اس نے بنگلہ دیش کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ اور دنیا کی توجہ جنوبی ایشیا کے اس قدامت پسند ملک میں جنسی طور پر ہراساں کی جانے والی خواتین کے سنگین حالات پر مرکوز کروائی ہے۔

19 سالہ نصرت کا تعلق ڈھاکا سے 160 کلومیٹر دور جنوب میں واقع ایک چھوٹے قصبے فینی سے تھا۔ وہ ایک مدرسے میں پڑھتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ 27 مارچ کو مدرسے کے ہیڈماسٹر نے انھیں اپنے دفتر میں بلایا اور متعدد بار غیر مناسب طریقے سے چھونے کی کوشش کی۔ اور اس سے پہلے کہ بات آگے بڑھتی وہ ان کے دفتر سے بھاگ آئی تھی۔

نصرت نے مقامی پولیس سٹیشن میں اپنا بیان دیا کہ اس کو پولیس سٹیشن میں محفوظ ماحول فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنے انتہائی برے تجربات کو یاد کر سکے۔ مگر اس کے برعکس اس کے بیان کی ڈیوٹی پر موجود پولیس افسر نے اپنے موبائل پر ویڈیو بنائی۔

پولیس نے نصرت جہاں کو تیل چھڑک کر زندہ جلانے کے الزام میں 17 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ آگ لگنے سے نصرت کا 80 فی صد جسم جل چکا تھا مگر اس نے جاتے جاتے اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا جس نے مجرموں کے خلاف قانونی کارروائی مزید آسان بنا دی ہے۔