.

بشار الاسد طرطوس کی بندرگاہ کرائے پر روس کے حوالے کرنے کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں سرکاری میڈیا نے بتایا ہے کہ صدر بشار الاسد نے جمعے اور ہفتے کے روز دمشق میں روس کے سینئر ذمے داروں کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں۔ ملاقاتوں میں امن بات چیت کا آئندہ دور، طرطوس کی بندرگاہ کو کرائے پر دینے کا معاملہ اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے امور زیر بحث آئے۔

روس کی مدد سے بشار الاسد نے ملک کے اکثر حصے کا کنٹرول واپس لے لیا مگر آٹھ برس سے بھڑکی ہوئی جنگ ابھی تک جاری ہے۔ شام کا شمال مشرقی اور شمال مغربی حصہ ابھی تک بشار الاسد کے کنٹرول سے باہر ہے۔

ماسکو ایک سیاسی عمل کے آغاز کا خواہاں ہے جس میں تنازع کو ختم کرنے کے لیے نئے آئین کی تشکیل اور انتخابات کے اجرا پر بات چیت شامل ہو.. مگر بشار نے اس عمل میں اپوزیشن کی شرکت کے امکان کو کم کر دیا ہے۔

روسی وزارت خارجہ نے جمعے کو رات گئے بتایا کہ بشار نے شام کے لیے روس کے خصوصی نمائندے الیگزینڈر لاؤرنتیف، روسی نائب وزیر خارجہ سرگئی ویرشینن اور روسی وزارت دفاع کے متعدد ذمے داران سے ملاقات کی۔

تاس خبر رساں ایجنسی نے روس کے نائب وزیراعظم یوری بوریسوف کے حوالے سے بتایا ہے کہ روس شام سے طرطوس کی بندرگاہ کرائے پر لینے کے معاہدے پر جلد دستخط کرے گا۔ ایجنسی کے مطابق بوریسوف نے بتایا کہ روس ایک ہفتے کے اندر بندرگاہ کے معاہدے پر دستخط کرنے کے حوالے سے غور کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ طرطوس میں روسی بحری اڈہ بحیرہ روم میں روس کی موجودگی کا واحد علاقہ ہے۔

ادھر شام کے سرکاری میڈیا نے چند روز قبل بتایا تھا کہ ایندھن کی قلت کے سبب پیٹرول پمپس پر گاڑیوں کی طویل قطاریں موجود ہیں۔ یہ صورت حال ایندھن کی درآمد میں درپیش مشکلات اور ایران کی جانب سے کریڈٹ لائن پوری ہو جانے کا نتیجہ ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں شامی وزیر خارجہ ولید المعلم کا کہنا تھا کہ "شام کی اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ رابطہ کاری مستقل صورت میں جاری ہے"۔