.

مالی بحران، فلسطینی اتھارٹی کی عرب ممالک سے قرض کے لیے درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل اور امریکا کی طرف سے معاشی پابندیوں کے باعث فلسطینی اتھارٹی شدیدمالی بحران کا سامنا کررہی ہے۔ مالی بحران سے نکلنےکے لیے اتھارٹی نےعرب ممالک سے قرض لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہفتے کے روز فلسطینی اتھارٹی کے ایک سینیر عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر'رائیٹرز' کوبتایاکہ صدر محمود عباس آج اتوار کو قاہرہ میں ہونے والے عرب وزراء خارجہ کے اجلاس میں عرب ممالک سے مالی مدد اور قرض کی فراہمی کی اپیل کریں‌گے۔

فلسطینی اتھارٹی کے عہدیدار کاکہنا تھا کہ ہم اسرائیلی ریاست کی بلیک میلنگ کے آگے نہیں جھکیں گے۔ فلسطینی اتھارٹی کو معاشی بحران سے دوچار کرنے کا مقصد صہیونی ریاست کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پرمجبور کرناہےمگرہم ایسا نہیں کریں گے۔ صدر عباس آج اتوار کو قاہرہ میں ہونے والے عرب وزراء خارجہ کےاجلاس میں شرکت کریں گے۔اس موقع پر وہ عرب ممالک سے اتھارٹی کو درپیش مالی بحران سے نکلنےکے لیے مالی مدد کی اپیل کریں گے۔

خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی نےگذشتہ دو ماہ کےدوران اسرائیل کی طرف سے ٹیکسوں کی جمع کی گئی کچھ رقم وصول کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا تھا کہ اسرائیل فلسطینی ٹیکسوں کی رقم میں کٹوتی نہ کرے اور پوری رقم ادا کرے مگر اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو ملنے والی رقم صہیونی ریاست کے خلاف لڑتے ہوئے شہید،زخمی اور قیدیوں کے خاندانوں کی کفالت پر صرف کی جا رہی ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کا انحصار یا تو بیرونی امداد پر ہے یا فلسطینی مصنوعات پراسرائیل میں جمع ہونے والے ٹیکسوں پر ہے۔ اسرائیل نے کچھ عرصے سے ٹیکسوں کی رقم میں کٹوتی شروع کررکھی ہے جس کے نتیجے میں فلسطینی اتھارٹی کو مالی بحران کا سامنا ہے۔

گذشتہ دو ماہ کے دوران فلسطینی اتھارٹی اپنےسول اور سیکیورٹی عملےکی تنخواہیں ادا کرتی رہی ہے۔

ماہ رمضان کے موقع پر فلسطینی اتھارٹی کو اپنے زیادہ سےزیادہ ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنانا ہے۔بدھ کو عالمی بنک کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ اسرائیل کی طرف سے کٹوتی کی گئی رقم فلسطینی اتھارٹی کی مجموعی آمدن کا 65 فی صد ہے۔

رپورٹ میں کہا گیاہےکہ اسرائیل کی طرف سےفلسطینی رقوم کی عدم ادائیگی کے باعث سال 2018ء 2019ء کا بجٹ خسارہ 40 کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

نو منتخب فلسطینی وزیراعظم محمد اشتیہ نے مالی بحران سے نکلنے کےلیے تیس اپریل کو ڈرونر کانفرنس بلانے کااعلان کیا ہے۔