ایرانی تیل درآمد کرنے والے ممالک کے سر پر امریکی پابندیوں کی تلوار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا پیر کے روز یہ اعلان کرنے کی تیاری کر رہا ہے کہ ایرانی تیل درآمد کرنے والے تمام ممالک مختصر عرصے کے بعد اپنی اس درآمدات کا سلسلہ ختم کر دیں بصورت دیگر انہیں امریکی پابندیوں کا سامنا ہو گا۔ یہ بات امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اتوار کے روز بتائی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ برس مئی میں ایران اور چھ بڑی طاقتوں کے درمیان (2015 میں طے پائے گئے) جوہری معاہدے سے یک طرفہ طور پر علاحدہ ہو گئے تھے۔ اس کے بعد نومبر میں امریا نے ایرانی تیل کی برآمدات پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ واشنگٹن کی جانب سے تہران پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے دائرے کو کم کرے اور مشرق وسطی میں شدت پسندوں کے لیے اپنی سپورٹ کا سلسلہ بند کرے۔

پابندیوں سے ہٹ کر امریکا نے ایران نے تیل کی خریداری کم کرنے والے آٹھ ممالک کو استثناء دیا تھا کہ وہ مزید چھ ماہ تک پابندیوں کا سامنا کیے بغیر خریداری جاری رکھ سکتے ہیں۔ یہ آٹھ ممالک چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، ترکی، اطالیہ اور یونان ہیں۔

امریکی اخبار کے لکھاری جوش روجن نے امریکی وزارت خارجہ کے دو ذمے داران کے حوالے سے بتایا ہے کہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو پیر کے روز یہ اعلان کریں گے کہ "مؤرخہ دو مئی سے وزارت خارجہ کسی بھی ایسے ملک کو پابندیوں سے مستثنی نہیں کرے گا جو اس وقت ایرانی خام تیل یا اس کی پٹرولیم مصنوعات درآمد کر ہا ہے"۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے منع کر دیا۔

اسی طرح توانائی کے وسائل کے لیے امریکی وزیر خارجہ کے معاون فرینک وینن نے بدھ کے روز یہ بات دہرائی تھی کہ امریکی انتظامیہ کا ہدف یہ ہے کہ جلد از جلد ایران کی تمام برآمدات کو روک دیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں